سائنس و ٹیکنالوجی اور اسلام

icon-contribute
نبی اور رسول میں فرق
December 18, 2015
icon-contribute
اہل رشد کی خدمت میں
February 2, 2016

سائنس و ٹیکنالوجی اور اسلام

icon-contribute

البرہان کے شمارہ فروری و مارچ میں درج بالا موضوع پر ڈاکٹر نعمان ندوی صاحب کی تحریر پڑھ کر  جہاں یہ اندازہ ہوا کہ سائنس و ٹیکنالوجی  اسلام کے لیے کتنی خطر ناک ہے وہاں بہتوں کی جنرل نالج میں بھی اضافہ ہو اہو گاکہ جزیرۃ العرب کی سرزمین مرکز کائنات ہے ۔ گلیلیو کے دور میں پادری حضرات بھی اسی قسم کے ایمانیات کا پرچار کرتے تھے ۔ گلیلیو نے آکر زمین کو مرکزِ کائنات کے چکر سے نکالا تاہم اتنے ماہ وسائل گزرنے کے بعد ندوی صاحب محترم نے پھر سے نہ صرف زمین کو بلکہ زمین میں سے بھی جزیرۃ العرب کی سرزمین کو مرکزِ کائنات بنا دیا۔  لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس مرکز کائنات کو جاہل و ان پڑھ قسم کی قوم کا مسکن بھی قرار دیدیا اوراور بھول گئے کہ یہ ان پڑھ قوم کس قدر اعلیٰ درجے کا ادبی ذوق رکھتی تھی ۔ کعبہ کی دیوار پر  اپنے اشعار کس طرح لٹکا لیتی تھی ۔  اس دور کے مشہور  سبعہ معلقات ان پڑھ و جاہل قوم سے کیونکر اور کس طرح سرزد ہو گئے تھے۔

ڈاکٹرصاحب محترمِ،  اس قوم کو امی ا سلیے نہیں کہا جاتا تھاکہ وہ ان پڑھ تھے بلکہ اس لیے کہ اس میں الہامی کتاب کا وجود نہ تھا۔ وہ تو اپنے علاوہ ہر قوم کوگونگاگردانتے تھے ۔ امّی کا مطلب جاہل لینا بڑا ہی عجیب ہے اور یہ دعویٰ تو عجیب تر ہے کہ  ’’ انیسوی صدی  کے آخر تک  مکہ معظمہ میں فراہمی آب و نکاسی فضلات کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا۔ صحرائی و ریگستانی ماحول کے بدویانہ طرزِ زندگی میں اس طرح کی جدید سہولیات کی عدم موجودگی کو ہم سائنسی علوم کے غیر اہم ہونے پر دلیل قائم کر رہے ہیں ۔ حالانکہ بالکل ابتدائی دور میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان قابل غور ہے  جو آپؓ نے واقعہ افک کی تفصیلات  بتاتے ہوئے دیا تھا ۔  یہ واقعہ تفاسیر کی تمام متداول کتابوں میں موجود ہے ۔ آپ کا ارشاد ہے کہ ’’ ایک روز رات کے وقت حاجت کے لیے ، میں مدینے کے باہر گئی ۔ اس وقت تک ہمارے گھروں میں یہ بیت الخلا نہ تھے  اور ہم جنگل میں جایا کرتے تھے ‘‘ ۔  یہ بیان اس بات کی شہادت ہے کہ حضرت عائشہ کی زندگی میں ہی گھروں میں بیت الخلا بن چکے تھے  اور اس دور کے اپنے ماحول کے مطابق یقینا  یہ ٹیکنالوجی کا ہی استعمال تھا جس کے ذریعے  سے (Drainage System)  معرض وجود میں آیا تھا ۔

      حضور اکرمﷺ نے اپنی جنگی مہمات میں بہتر ٹیکنالوجی اختیار کی ۔ عزوہ خندق میںکس کو معلو م نہیں کہ حضرت سلمان فارسیؓکی تجویز پر خندق کھودی گئی جو عرب کی جنگی تاریخ میں  پہلی دفعہ بیرونی ٹیکنالوجی کا استعمال تھا ۔ اسی وجہ سے دشمن کو ہزیمت اٹھانا پڑی ۔ پیدل سپاہی کے مقابلے میں گھڑسوار اور گھڑسواری کے مقابلے میں تیراندازی کیا بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں ؟  کیا ہمارے نبی ﷺ کی سنت یہی ہے کہ میزائل و ایٹم بم کے مقابلے میں تلوار سے مقابلہ کیا جائے اور یہ توقع کی جائے کہ ہم اس طرح ہر محاذ میں فتح یاب ہوں گے، کیونکہ سنت کی پیروی کا یہ لازمی نتیجہ ہے ؟

      اگر صاحب مضمون کا دعویٰ محض یہ ہوتا ، جیسے انہوں نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’ فضیلت ، برتری ، کا میابی اور استخلاف کا واحد سبب محض سائنس و ٹیکنالوجی کو سمجھ لیا گیا ہے ‘‘۔ ( البرہان ، فروری2011 ،  ص 58 )  تو ہم کہہ سکتے تھے کہ واقعی یہ واحد سبب نہیں ہے ۔

لیکن کس اہلِ علم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ واحد سبب ہے ؟ یقینا  یہ واحد سبب نہیں لیکن اس مقدمے سے سائنس  و ٹیکنالوجی ترقی کے لیے غیر اہم کس طرح ثابت ہو گئی ؟  اس مضمون میں قرآن کریم کی جتنی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے  ان کا نفس مضمون سے دور کا تعلق بھی نہیں بنتا  ہمیںحیرت ہے کہ قرآنی آیات کا حوالہ دے کر غلط نتیجہ نکال کر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ  ’’ سائنس و ٹیکنالوجی نہ جاننے والوں کو قرآن کی کسی آیت میں بھی جہنم کی وعید نہیں سنائی گئی ‘‘  ( البرہان ، ضروری ، ص 59) دوسرے الفاظ میں صاحبِ مضمون ہمیں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ سائنس و ٹیکنالوجی  نہ جاننے والوں کو قرآن نے جہنم کی وعید نہیں سنائی  اس لیے اس کا حصول غیر اہم ہے ۔  اگر اس طرزِ استدلال کو ہم علم کی معراج سمجھ کر اختیار کرنا شروع کر دیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ  قرآن کی کسی آیت میں بھی  پانی نہ پینے اور کھانا نہ کھانے والوں کو جہنم کی وعید نہیں سنائی گئی لہذا پانی  اورخوراک کا استعمال مسلم ترقی و سربلندی کے لیے غیر اہم ہے ۔

      بالکل درست کہ  ’’ استخلاف کی کسی آیت میں کسی نبی کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ زمین میں اقتدار کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کے علم کی تدریس و تعلیم کو اولیت دیں گے ‘‘ ۔  (ایضاً ص  58)  تو کیا ڈاکٹر صاحب موصوف ہمیں کسی ایک آیت کا حوالہ دے سکتے ہیں جس میں زمین میں اقتدار کے بعد پانی و خوراک کے حصول میں اولیت دی گئی ہو؟  اصل یہ ہے کہ یہ عقل عام  ( Common Sense)  ، اگر چہ یہ اتنی عام نہیں ، کا تقاضا ہے کہ حیات ارضی میں بہتر سے بہتر وسائل کا بھرپور استعمال کیا جائے۔  در اصل سائنس و ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ہی بہتر وسائل کو اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی قرآن کا حکم ہے  (سورۃ الانفال آیت 60)    اور یہی سنت نبویﷺ بھی ۔ کیا ڈاکٹر صاحب  اورالبرہان والے اپنی روز مرہ زندگی میں قرآن کے خلاف عمل کر رہے ہیں ۔ مثلاً البرہان کمپیوٹر کے ذریعے کمپوزکیا جا رہاہے یا دستی کتابت کے ذریعے؟ یہ مضمون جس قلم سے لکھاگیا ہے کیا وہ سرکنڈے کو کاٹ کر قلمتراش سے بنایا گیا ہے  یا وہ قلم یا  بال پوائنٹ کسی فیکٹری کی ٹیکنالوجی کی نشانی ہے ؟

      ڈاکٹر صاحب نے مغرب کے معاشرے میں خودکشی کا سبب بھی سائنس و ٹیکنالوجی کو ہی قرار دیا ہے ۔ فرماتے ہیں : ’’ جدید مغربی تہذیب ، اس کی سائنس، ٹیکنالوجی  اور اس کے بطن سے پھوٹنے والے مسائل گلزڈلیوز کی خودکشی کا سبب ہیں ‘‘  (البرہان ، مارچ  ص 42) لیکن خود ہی اپنی تردید کرتے ہوئے کانٹ اور سیگل کے خیالات بھی پیش کر دیے کہ  انسان خود کشی کیوں کرتا ہے  ہمیں نہیں  معلوم کہ کوئی ذی شعور انسان ڈاکٹر صاحب کا مضمون پڑھ کر خود کشی کو سائنس و ٹیکنالوجی کا شاخسانہ قرار دے سکتاہے ۔     ڈاکٹر صاحب نے تاریخی استدلال کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے روم و ایران سے مسلمانوںکی جنگوں کو بھی اپنے نظریات کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ ’’ مسلمانوں کے پاس روم و ایران کی سائنس و ٹیکنالوجی کے مقابلے میں صرف ایمان کی قوت تھی ‘‘  ( البرہان مارچ ص 44) ’’ صرف ایمان کی قوت تھی ‘‘ میں صرف پر زور دے کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی سے نہ صرف کہ واقف نہیں تھے بلکہ حد درجہ لاپرواہ بھی تھے ، اسی لیے مسلمانوں کو فتح ہوئی  اورسائنس و ٹیکنالوجی کو شکست ۔ اس استدال کا لازمی نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے  تھاکہ ملا عمر کے طالبان کوفتح نصیب ہوتی اور  امریکہ کو شکست فاش۔ مگر نہ معلوم کہ اچانک کیا ہو گیا ۔  واقعی  ’’ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتاہے سپاہی ‘‘  کا مفہوم اب سمجھ میں آ سکتا ہے ۔ !

      ڈاکٹر صاحب کے لیے واجب تو یہ تھا کہ وہ روم و ایران کے سائنس و ٹیکنالوجی کی مسلمانوں پر برتری ثابت کرتے  تاکہ ان کی بات میں وزن پیدا ہوتا۔  حالانکہ مورخ ان کی شکست کے اسباب میں ان کی داخلی کمزوریوں کو سرفہرست رکھتے ہیں ۔ یہ دونوں طاقتیں نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار رہ کر کمزور ہو چکی تھیں بلکہ اندورنی خلفشار میںبھی مبتلا تھیں ۔  ایڈورڈ گبن کی مشہور زمانہ کتاب کا حوالہ دے کر ہم اپنے اوپر مغرب سے مرعوبیت کا الزام نہیں لینا چاہتے تھے مگر کیا حرج ہے کہ اس کا سرسری سا مطالعہ ہی کر لیا جائے ۔

      ہم  اس مضمون کی اشاعت کو  ’’ البرہان‘‘  کے صفحات کا ضیاع ہی سمجھتے ہیں ۔ تاہم اس فکر کو شاید  ’’البرہان‘‘ کی پالیسی نہ سمجھا جا سکے ۔ کیونکہ اسی شمارے کے آخر میں  پروفیسر ارشد جاوید صاحب کی کتاب کا تعارف کروایا گیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’ مسلمانوں کا ہزار سالہ عروج  سیاسی ، سائنسی، طبی و علمی وہ دور اب بھی واپس آ سکتا ہے جس میں مسلم تہذیب نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ‘‘  ( البرہان ، مارچ ص 53)  بلکہ زیادہ درست رویہ یہ ہو گاکہ ہم اس تحریر کا اختتام  ’’البرہان ‘‘ کے مدیر محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون ’’ مسلمانوں کی ترقی کا واحد راستہ ‘‘ کے چند جملوں پر کریں ۔

مدیر محترم رقمطراز ہیں  :

 ۱۔ ’’ اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں قوموں کے عروج و زوال کا جائزہ لیں تو درج ذیل اصول ہمارے سامنے آتے ہیں :

انسان :  اس کائنات اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ، اس نے انسان کو کائنات میں تصرف کی صلاحیت اور اختیار دیاہے  اور کائنات اس کے لیے پیدا کی ہے ۔ انسان کو اس نے زمین میں قیادت تک کے لیے سامان زیست مہیا کیا ہے تاکہ  وہ یہاں بخوبی زندگی گزار سکیں ۔ ( ص 46)

۲۔ ’’ آج اہلِ مغرب کامیاب ہیں ، اگرچہ وہ اللہ کی اطاعت کے راستے پر نہیں چل رہے  اور دنیوی زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کو انہوں نے رد کر دیا ہے ۔ ان کی کامیابیوں کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو منظم کر کے اسبابِ زندگی مہیا کرنے پر دوسروں سے بہتر قدرت حاصل کر لی ہے ‘‘  ( ایضاً ص 48)

۳۔     ’’ آج مسلمان اس لیے دنیا میں ناکام ہیں کہ ان کا معاشرہ اور ان کی اکثریت اللہ کی اطاعت کی زندگی نہیں گزار رہی۔ اگر وہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے تو ان کی انسانی صلاحتیں بھی بہتر طور پر منظم ہو جاتیں ، وہ اسباب زندگی مہیا کرنے پر بھی قادر ہو جاتے اور یوں دنیا میںبھی کامیاب ٹھہرتے۔ (ص 48)

۴۔  (مسلمان) احکامِ الٰہی کی عدم اطاعت کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے وہ اس قوت سے محروم ہو جائیں  گے کہ اپنی صلاحیتوں کو منظم کر سکیں اور اسبابِ زندگی مہیا کرنے پر قادر ہو سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔  ( ص 40)

۵۔’’ دنیا ہو آخرت دونوں میں کامیابی کا طریقہ یہی ہے کہ  دنیوی زندگی  اللہ کے احکام کے مطابق گزاری جائے اس سے نہ صرف آخرت میں کامیابی یقینی ہو جائے گی بلکہ انسانی صلاحیتوں کے بہتر استعمال کی وجہ سے مسلمان اسبابِ دنیا مہیاکرنے میں بھی دوسروں سے آگے نکل جائیں گے ۔ ‘‘  ( ص 49)

      اس مضمون کا خلاصہ کرتے ہوئے  مدیر محترم ہمیں سائنس و ٹیکنالوجی کے بارے میں  درست و معتدل رویہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ آپ کے بقول ’’ دنیا میں مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سچ مچ اللہ کی اطاعت کا راستہ  اختیار کر لیں اور منافقت و دو عملی چھوڑ دیں ۔ اس طرح ان کی انسانی صلاحیتوں کی بہتر نشونما ہو گی اور وہ دوسروں سے بہتر انداز میں اسباب زندگی مہیا کرنے پر قادر ہو جائیں گے ۔ ( ص 50)

      اور ہمارا خیال ہے کہ  دوسروں سے بہتر انداز میں اسباب زندگی حاصل کرنے ہی کا دوسرا نام سائنس و ٹیکنالوجی کا دوسرو ں سے بڑھ کر استعمال ہے جومسلمانوں کا سب سے زیادہ حق ہے

Comments are closed.