بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

انورباسی

’’اﷲ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامتِ صغریٰ ان کے ذریعے سے اسی دنیا میں برپا کر دیتے ہیں …………چنانچہ اﷲ تعالیٰ ان رسولوں کو غلبہ عطا فرماتے اور ان کی دعوت کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کردیتے ہیں ۔ نبیوں کا انذار وبشارت تو کسی وضاحت کا تقاضا نہیں کرتا ، لیکن رسولوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ‘‘ ( قانون دعوت ، ص ۱۱)
ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں :
’’ وہ لوگ جن میں رسول کی بعثت ہوتی ہے اور جنہیں اس کے ذریعے سے براہ رست دعوت پہنچائی جاتی ہے ، ان پر چونکہ آخری حد تک اتمام حجت ہو جاتا ہے ، اس وجہ سے اس اتمام حجت کے بعد بھی وہ اگر ایمان نہ لائیں تو ان کے بارے میں اﷲ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن مجید میں پوری صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ وہ پھر اس کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ‘‘ (برہان ، ص ۱۴۰)
ان کے بقول رسول کے مخاطبین پر چونکہ آخری حد تک اتمام حجت ہو جاتاہے ، اس لیے وہ ایمان نہ لانے کی صورت میں زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔ اسی قانون کا ’’ یہ تقاضا لازمی تقاضا بھی بالبدایت واضح ہے کہ ان امیوں میں سے کوئی اگر ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرتا تو اسے بھی لا محالہ اسی سزا کا مستحق قرار پانا چاہیے تھا ۔ ( ایضاً ، ص۱۴۲)
محترم جاوید احمد غامدی صاحب اہلِ کتاب کے لیے مرتد کی سزا تسلیم نہیں کرتے ۔ اسی بات کو آپ نے اپنی کتاب ’’قانون جہاد ‘‘ میں بیان فرمایا ہے ۔ (ص۳۴۔۳۵)
درج بالا اقتباسات سے واضح ہو تا ہے کہ :
۱۔ انبیاء ؑ کا معاملہ رسولوں سے مختلف ہوتاہے ۔ رسولوں کو اﷲ تعالیٰ دنیا میں ہی لازماً غلبہ عطا فرماتے ہیں ۔
۲۔ رسول اپنی قول پر آخری حد تک اتمام حجت کر جاتے ہیں ۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے وہ زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔
اس اصولی موقف سے درج ذیل لازمی منطقی نتائج برآمد ہوتے ہیں :
۱۔ نبی عام ہوتا ہے اور رسول خاص ۔ یعنی ہر رسول نبی تو لازماً ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا ۔ رسول تو ہمیشہ غالب آ کر رہتا
ٍ ہے ۔ نبی کے لیے غلبہ ضروری نہیں ۔
۲۔ دنیا میں بے شمار انبیاء ؑ آئے ہیں ۔ بلکہ ہر قوم میں نبی آئے ہیں جن میں کئی قتل بھی کیے گئے ۔ رسول کو چونکہ غالب ہونا ہوتا
ہے ، اس لیے اسے قتل نہیں کیا جا سکتا ۔
اس ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر ، تدبرقرآن جلد دوم میں ، سورۃ آل عمران کی آیت ۵۴ کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
’’ اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ انبیاء ؑ میں جو رسول کے درجے پر فائز ہوتے ہیں وہ اپنی قوم کے لیے عدالت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کے ذریعے سے لازماً قوم کے درمیان حق وباطل کا فیصلہ ہو جاتا ہے ۔ ( اس کا دوسرا مطلب یہی نکلتاہے کہ انبیاءؑ جو رسول نہیں ہوتے ان کے ذریعے سے حق و باطل کا فیصلہ نہیں ہوتا ……انور) رسول اور اس کے ساتھیوں کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور ان کے مخالفین شکست کھاتے ہیں قطع نظر اس کے یہ غلبہ رسول کی موجودگی میں حاصل ہو یا اس کے رخصت ہو چکنے کے بعد ۔ سیدنا مسیح ؑ کے متعلق قرآن کی تصریح کی روشنی میں اوپر معلوم ہو چکا ہے کہ وہ ……صرف نبی ہی نہیں بلکہ و رسولا بنی اسرائیل، بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ۔ ان کے منصب کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ ان کے متبعین کو ان کے مخالفین پر وہ غلبہ حاصل ہوتا جس کی اس آیت میں بشارت ہے ۔ لا غلبن انا ورسلی والی آیت میں بھی اس سنت اﷲ کا بیان آتا ہے ۔ یہی وہ عدالت ہے جس کا ذکر انجیلوں میں بار بار آتا ہے ۔ رسولوں کی اس امتیازی خصوصیت کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو یہ مہلت نہیں دیتا کہ وہ ان کو قتل کر دیں ، چنانچہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں ‘‘ (تدبرقرآن ج ۲، ص۱۰۶)
ہمیں فی الحال اس سے بحث نہیں کہ کون رسول اپنی زندگی میں غالب آیا یا دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کے پیروکار غالب آئے ۔ ہم اس بحث سے بھی صرف ِ نظر کر دیتے ہیں کہ اس اصول کے مطابق رسول کو تو لازماً اپنی زندگی میں ہی غالب ہونا تھا ، اس کی موت کا کیوں انتظار کیاگیا ۔ سردست ہمیں مولانا محترم کے اس طویل اقتباس کے صرف آخری جملے سے غرض ہے جس سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے ، اور فرق یہ ہوتا ہے کہ رسول کو قتل نہیں کیا جاسکتا تھا ، وہ ہمیشہ غالب آ کر رہتا تھا ۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے مولانا محترم کا یہ جملہ قابل غور ہے کہ ’’ چنانچہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت ہیں ‘‘۔
کیا قرآن سے بھی اس نظریے کی تائیدہوتی ہے ؟ اس سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 183 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : قل قدجاء کم رسل من قبلی بالبینت وبالذی قُلتم فلم قتلتمو ھم ان کنتم صٰدقین۔ ان سے کہو کہ مجھ سے پہلے تمھارے پاس رسول کھلی کھلی نشانیاں اور وہ چیز بھی لے کر آئے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا اگر تم سچے ہو ‘‘ دیکھیے یہاں قرآن اس بات کی تصریح کر رہاہے کہ نبی ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی قتل کیا جاتا رہاہے ۔ قرآن کی اس آیت کی صراحت کی موجودگی میں رسولوں کے غلبے کا وہ مفہوم قطعاً نہیں لیا جا سکتا جس کو مولانا محترم ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ وہ خود اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ یہ عذر یہود نے محض شرارت جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ، گھڑا تھا ۔ اس وجہ سے قرآن نے ان کے ذہن کو سامنے رکھ کر جواب دے دیا کہ ان سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے ایسے رسول آ چکے ہیں جو نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے اور وہ معجزہ بھی انہوں نے دکھایا جس کا تم نے ذکر کیا تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا ؟ ( تدبرقرآن ج ۲، ص ۲۲۰)
ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب مولانا محترم خود رسولوں کے قتل کیے جانے کے قائل ہیں تو محض رسول اور نبی میں فرق ثابت کرنے کے لیے یہ کس طرح لکھ دیا کہ ’’ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں ‘‘ ؟ قرآن مجید میں ایک دوسری سورۃ المائدہ میں قتلِ رسول کا ذکر اس طرح بیان ہوا ہے : لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل و ارسلنا الیھم رسلا کلما جاء ھم رسول بما لا تھوٰی انفسھم فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون ۔ (۵/۷۰) ہم نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا اور ان کی طرف سے بہت سے رسول بھیجے ۔ جب جب آیا ان کے پاس کوئی رسول ایسے بات لے کر جو ان کی خواہش کے خلاف ہوئی تو ایک گروہ کی انہوں نے تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے ، قرآن مجید کی یہ آیت بھی رسولوں کے ایک گروہ کے قتل کیے جانے کی تصریح کر رہی ہے ۔ خود مولانا اصلاحی ؒ نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے :
’’ اب یہ اس بات کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ کیوں ان اہلِ کتاب کی اﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی دینی حیثیت نہیں ہے ۔ فرمایا کہ ان سے جس کتاب و شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیاتھا اور جس کی تجدید اور یاد دہانی کے لیے اﷲ نے یکے بعد دیگرے بہت سے رسول اور نبی بھی بھیجے ، اس عہد کو انہوں نے توڑ دیا اور جو رسول اس تجدید اور یاددہانی کے لیے آئے ان کی باتوں کو اپنی خواہشات کے خلاف پا کر یا تو ان کی تکذیب کر دی یا ان کو قتل کر دیا ‘‘ ( تدبر قرآن : ج۲، ص ۵۶۶)

قرآن مجید کی ان صریح آیات اور خود مولانا اصلاحی ـؒ کی اپنی تشریح سے رسولوں کا قتل کیا جانا ثابت ہو رہا ہے ، جس سے یہ نظریہ غلط ثابت ہو جا تا ہے کہ رسول اور نبی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ رسول ہمیشہ غالب آتے رہے اور وہ قتل نہیں کیے جا سکتے تھے قانونِ اتمام حجت کے لیے یہ قطعا ً ضروری نہیں کہ یہ مفروضے بھی درست ہوں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نبی اور رسول میں کوئی اصطلاحی فرق نہیں ، اور یہ کہ نبی بھی اتمامِ حجت ہی کے لیے آیا کرتے تھے ۔ ایک دوسرے پہلوسے بھی اس نظریے کو دیکھیں تو یہ غلط ٹھہرتا ہے ۔ اس نظریے کا ایک لازمی منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چونکہ رسول خاص ہوتا ہے ، جو اتمام حجت کرتا اور غالب ہوا کرتاہے اس لیے وہ نبی جو رسول نہیں ہوتے تھے وہ تو ہر قوم اور ملت کی طرف آتے رہے لیکن رسول ہر قوم کی طرف نہیں آ سکتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر نبی ہر قوم اور قریہ کی طرف مبعوث کئے جا تے رہے ہوں اور رسول بھی ہر قوم و قریہ کی طرف تو پھر ان میں فرق کس طرح کریں گے؟ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک قوم یا قریہ کی طرف رسول بھیجنے کے بعدنبی بھیجا جائے یا نبی بھیجنے کے بعد رسول ۔ ایک قوم کی طرف اگر سول آکر غالب رہا تو اس قوم کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ دیکھئے قرآن ہمیں کیا بتاتا ہے ۔ سورہ یونس میں ارشاد ربانی ہے : ’’ولکل امۃ رسول‘‘ (10/47 )’’ اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے ‘‘ ۔ سورہ النحل میں ارشاد ہو تا ہے ’’ ولقد بعثنا فی کل امۃ رسول ان اعبدا اﷲ و اجتنبو ا الطاغوت ‘‘ (16/36) ’’اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اﷲ کی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو ‘‘ ۔ سیدھا سا سوال ہے کہ جب ہر قوم کی طرف رسول آیا ہے تو نبی کس کی طرف بھیجا گیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے ایک ہی بات کو مختلف پہلو ؤں کو مد نظر رکھتے ہو ئے مختلف انداز میں دہرایا ہے ۔ کبھی کہا کہ ’’ ہر قوم کی طرف ہدایت دینے والے (ھاد) آتے رہے ‘‘(الرعد 13/7 )۔ کبھی فر مایا گیا کہ’’ ہر امت کی طرف ہو شیار کر نے والے (نذیر) بھیجے گئے‘‘ (فاطر : 35/24 ) ۔ کبھی ارشاد ہوا کہ’’ انبیاء بھیجے گئے جو خوشخبری دینے والے ڈرانے والے (ہو شیار کر نے والے) تھے‘‘ (البقرہ : 2/213 ) ۔ کبھی کہا گیا کہ’’ اﷲ نے رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ہو شیار کر نے والے بناکر بھیجا گیا ‘‘ ( النساء : 4/165 ، الانعام : 6/48 ) ۔ کبھی ارشاد ہو تا ہے کہ’’ ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ اس میں کوئی رسول نہ بھیج دیں‘‘ (بنی اسرائیل : 17/15 ، القصص: 28/59) ۔کبھی رسول یا نبی کا ذکر کئے بغیر صرف یہ کہا گیا کہ’’ ہم کسی بھی بستی کو ہلاک نہیں کر تے جب تک کہ کو ئی ہوشیارکر نے والا (نذیر ) نہ بھیج دیں ‘‘ ۔( الشعراء :(26/208 )۔
اس سے یہ نتیجہ نکالنا یقینا درست نہ ہو گا کہ ہر قوم کی طرف کبھی تو ہادی( نام یا صفت رکھنے والے افراد) بھیجے گئے اور پھر معاً بعد ان سے الگ کوئی دوسری مخلوق ہو شیار کرنے والی (نذیر) بھی بھیجی گئی ۔ اسی کی طرف نبی بھی آئے اور رسول بھی جو مختلف افرادہو تے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہادی ، نذیر ، بشیر ، نبی اور رسول الگ الگ فریضہ انجام دینے کے لئے ہر قوم کی طرف آتے رہے۔ یہ سمجھنا دشوار ہو رہا ہے کہ نبی اگر ہادی نہیں ہو تا تھا ، یا رسول اگر نذیر یا بشیر نہیں ہو تا تھا تو وہ کیا کر تا تھا؟ نبی ہی اگر خدا کاپیغام بندوں تک نہ پہنچائے تو امت کے دوسرے صلحاء و علما کیا خاک یہ کام سر انجام دیں گے؟ رسول کہتے ہی اس کو ہیں جو بندوں تک اﷲ کا پیغام پہنچائے ، لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہرنبی رسول نہیں ہو تا تو گویا ہم یہ دعوی کر رہے ہو تے ہیں کہ ہر نبی اﷲ کا پیغام بندوں تک نہیں پہنچاتا تھا۔درست بات یہ ہے کہ ہادی، بشیر، نذیر، نبی یا رسول ایک ہی فرد کے لئے بولا گیا ہے۔ ان میں لغوی اعتبارسے تو فرق ضرور ہے لیکن اصلاحی مفہوم میں سرے سے کوئی فرق نہیں۔ ایک فرد جب اﷲ کی طرف سے علم حاصل کر رہا ہو تا ہے تو وہ نبی ہو تا، جب وہ علم بندوں تک منتقل کر رہا ہو تا ہے تو وہ رسول کہلاتا ہے۔جب اس پیغام میں خوشخبری کا پہلو ہو تا ہے تو وہ بشیر ہے ، جب خطرناک انجام سے ہوشیاری کا پہلو نمایاں ہو تا ہے تو وہ نذیر ہو تا ہے۔ جن اصحاب علم و دانش نے ان الفاظ سے یہ سمجھا ہے کہ ان میں فرق ہے اور اتنا بڑا فرق ہے کہ رسول اتمام حجت کر تا اور نبی سے اتمام حجت نہیں ہو پاتا ، ہماری دانست میں ان سے سہو ہوا ہے۔
اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ یہ بات درست ہے کہ نبی اکرمؐ چونکہ رسول تھے اس لئے وہ اتمام حجت کر نے کے بعد قوم کو نیست و نابود کر نے پر مامو ر تھے اور نہ یہ بات درست ہے کہ مر تد کی سزا کا تعلق مشرکین بنی اسماعیل سے ہے جن پر نبیؐ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد براہ راست اﷲ تعالی کے حکم کے تحت موت کی مزا نافذکی گئی تھی اور اسلام قبول کئے بغیر ان کے لئے زندہ رہنے کی کو ئی گنجائش باقی نہیں رکھی گئی۔ اسی طرح یہ بھی صحیح نہیں ہو سکتا کہ اس حکم کی تو سیع اہل کتاب تک مانی جائے۔ یہ دعوی یقینادرست نہیں ہو سکتا کہ رسول اتمام حجت کر نے کے لئے آتا تھا اور نبی کسی دوسرے کا م کے لئے یا یہ کہ نبی کو تو قتل کیا جا سکتا تھا اور رسول کو قتل نہیں کیا جا کیا جا سکتا تھا۔ یا یہ کہ رسول توہمیشہ غالب ہو کررہتا تھا مگر نبی نہیں۔
غلبہ رسول کے اس مفہوم کے متعلق مو لانا مو دو دیؒ رقمطراز ہیں :
’’ اس امداد اورغلبہ کے معنی لازما ً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اﷲ کے ہرنبی (مر سلین) اور اس کے پیروں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے سیاسی غلبہ بھی ہے۔ جہاں اس نو عیت کا استیلاء اﷲ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے ، وہاں بھی ان کا اخلاقی تفوّق ثابت ہو کر رہا ہے ‘‘ (تفہیم القرآن ج 4 سورہ الصفٰت : حاشیہ نمبر 93 )
قتل مر تد چونکہ اسی اصول ہی کی ایک فرع ہے اس لئے اس اصول کے عدم ثبوت کے بعد ارتداد کی سزا پر بحث کی چنداں ضروریات باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم صرف چند پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے ۔ قرآن مجید کا اسلوب یہ دکھائی دیتا ہے کہ جن جرائم پر وہ کوئی سزا تجویز کر نا چاہتا ہے وہ اس جرم کے بیان کے موقع پر بتا دیتا ہے۔سورہ نور میں زنا کی سزا اور بہتان کی سزا، فوراً بیان کر دی گئی۔ایسا نہیں ہوا کہ مجرد بہتان یا زنا کی سزا اصطلاحی تعریف پر اکتفا کر دیا گیا ہو ۔سورہ المائدہ میں چوری کی سزا بیان کر دی ۔ کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ قرآن میں کم از کم چار مرتبہ ارتداد کا ذکر ہوا ہے لیکن کسی ایک جگہ پر بھی اشارۃً یا کنایۃً ،قتل تو دور کی بات، کسی بھی سزا کاذکر نہیں کیا گیا؟ سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا کہ: ’’ اﷲ ان لوگوں کو کس طرح با مراد کرے گا جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ۔۔۔درآنحا لیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آ چکی ہیں اور اﷲ ظالموں کو با مراد نہیں کرے گا۔ ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اﷲ کی ، اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہو گی ۔اور ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ ان کو مہلت دی جا ئے گی۔ ( آل عمران ۔86-88 / 3 ‘‘
اسی سورہ کی اگلی ہی آیت میں ایمان کے بعد کفر کا پھر ذکر کیا گیا ۔ ارشاد ہو تا ہے: ’’ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی تو بہ ہر گز قبول نہیں ہو گی،(آل عمران : 3/90 )‘‘سورہ النساء میں فر مایا گیا : ’’ بے شک جو لوگ ایمان لائے ، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر کفر میں بڑھتے گئے ، اﷲ نہ ان کی مغفرت فر مانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے ۔ (النساء : 4/137 ) ‘‘ سورہ النحل میں ارشاد ہوا کہ : ’’ جو اپنے ایمان لانے کے بعد اﷲ کا کفر کر ے گا بجز اس کے جس پر جبر کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، لیکن جو کفر کے لئے سینہ کھول دے گا تو ان پر اﷲ کا غضب اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے ‘‘ (الخل : 16/106 ) ‘‘
ان آیات کریمہ میں ایمان کے بعد کفر یا ایمان کے بعد کفر ، پھر ایمان ، پھر کفر ، یا کفر میں آگئے بڑھنے کا ذکر ہوا ہے ۔سو چنے کا مقام یہ ہے کہ اگر مر تد کی سزا قتل ہو تی تو نفاذ سزا کے بعد کو ئی فرد کفر میں آگئے کس طرح بڑھتا جا ئے گا؟ نیز یہ کہ قتل کی سزا کے بعد دو بارہ کفر کے بعد ایمان کس طرح لائے گا ایمان کے بعد کفر ، پھر کفر کے بعد ایمان، پھر ایمان کے بعد کفر کا مرحلہ تب ہی آسکتا ہے جب پہلے ہی مر حلے پر ایمان کے بعد کفر کی صورت میں مر تد کو قتل نہ کیا گیا ہو ۔ ہمارا خیال ہے کہ اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے کسی گہرے غوروفکر کی ضرورت نہیں ۔سورہ المائدہ میں تو صریحاً ارتداد کا ذکر کیاگیامگر قتل کی سزا پھربھی نہ سنائی گئی ! ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اے ایمان والو جو تم میں سے اپنے دین سے پھرجا ئے گا ( من یر تد منکم عن دینہ)تو اﷲ کو کو ئی پر واہ نہیں )‘‘ ( المائدہ : 5/54 )
قرآن مجید کی ان تصریحات سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایمان کے بعد کفر یا ارتداد کی صورت میں ایسے لوگوں :
1۔ کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی ۔
2 ۔ پر اﷲ ، فرشتوں اور لوگوں کو لعنت ہو گی۔
3 ۔ کی تو بہ قبول نہیں کی جا ئے گی۔
4 ۔ کی مغفرت نہیں ہو گی۔
5 ۔ کے لئے اﷲ کا غضب اور عذاب عظیم ہو گا۔
6 ۔ کی اﷲ کو پرواہ نہیں ، ان کی جگہ دوسرے لوگ آ جائیں گے ۔
اﷲ تعالی نے یہ ساری باتیں تو تفصیل سے بتا دیں کہ جو مر تد ہو گا اس کو یہ اور یہ سزا ملے گی مگر نہیں بتائی تو یہی ایک بات کہ مر تد کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے ‘ !! ۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اﷲ تعالی سے (نعوذ با ﷲ) کو ئی بھول چوک ہو گئی ہو گی۔ ارتداد کا ذکر ہو اور بار بار ہو اور سزا کا ذکر نہ ہو تو اس سے یہی ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن نے مر تد کی سزا رکھی ہی نہیں۔اﷲ تعالیٰ نے زبردستی کے ایمان کا طریقہ سرے سے رکھا ہی نہیں ، ورنہ یہ سلسلہ آزمائش بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔ انسان بالکل آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس اختیار کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے کہ ’’ وہ چاہے تو سیدھا راستہ اختیار کرے چاہے تو اس کا انکار کر دے ‘‘ ( الدھر : 76/3 ،الکھف 18/29 )۔ ’’ جو ہدایت اختیار کرے گا اپنے لیے ہی کرے گا اور گمراہ ہو گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا اور تم ( اے محمد ﷺ) ان کے اوپر کوئی دروغہ نہیں مقرر کیے گئے ‘‘۔ ( الزمہ: 39/41) ۔خود نبی اکرم ﷺ کو بھی یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ زبردستی لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ۔ یہ کام اگر مطلوب ہوتا تو کیا خود اﷲ تعالیٰ یہ کام نہ کر سکتا تھا ۔ قرآن نے بالکل واضح کر دیا کہ: ’’ اور اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں سب ایمان قبول کر لیتے ۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ مومن بن جائیں ؟‘‘ (یونس : 10/99) ایک طرف یہ آیت ہے اور دوسری طرف نبی اکرم ﷺ سے منسوب ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لاالہٰ محمد رسولﷺ کی شہادت دیں ، نماز کا اہتمام کریں اور زکواۃ ادا کریں ‘‘ ( مسلم رقم ۲۲)
یعنی ایک طرف اﷲ تعالیٰ تو واضح طور پرنبی ﷺ کو یہ پیغام دے کہ تیرا یہ کام ہے ہی نہیں کہ تو زبردستی لوگوں سے کلمہ پڑھوائے اور دوسری طرف اﷲ کا نبی ﷺ یہ فرما رہا ہے کہ مجھے حکم ہی اسی کا دیا گیا ہے کہ میں کلمہ پڑھوانے کے لیے تلوار کا استعمال کروں ! سبحان اﷲ ۔ اب اس روایت کی روشنی میں قرآن کی آیت کو کھینچ تان کر اگر نبی اکرم ﷺ کی قوم بنی اسماعیل ہی کے ساتھ خاص کر دیا جائے تب بھی یہ نتیجہ تو نکلتاہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ کم از کم بنی اسماعیل کو تو لازماً تلوار کی نوک پر کلمہ پڑھوانے کا اہتمام کریں۔ اس کے ساتھ شاید ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب غیر مسلموں کا یہ اعتراض لازماً رفع ہو جائے گا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا !! ہمیں معلوم نہیں کہ اس عقیدے کے ساتھ ساتھ تلوار کے زور پر اسلام کو نہ پھیلائے جانے کا الزام کس طرح رفع ہو جائے گا ۔
ٍ اسلامی مفکرین میں دو طرح کے ذہن پائے جاتے ہیں ۔ ایک یہ کہ روایات کی روشنی میں قرآنی آیات کی تاویل کی جائے ، اور اگر تاویل ممکن نہ ہو تو آیت ہی کو منسوخ قرار دے دیاجائے ۔ دوسرا ذہن یہ ہے کہ قرآنی آیات کی روشنی میں روایات کی تاویل کی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو روایت کو مسترد کر دیا جائے گا۔ کیونکہ حدیث یا سنت کا یہ مقام ہی نہیں کہ قرآنی احکام کی تنسیخ یا اس میں کسی بھی قسم کا تغیرو تبدل کیا جا سکے تعارض اور تضاد کی صورت میں ترجیح بہرحال قرآن مجید کو ہی حاصل ہو گی ۔
اس ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ رقمطراز ہیں :
’’ اگر کوئی حدیث مجھے ایسی ملی ہے جو قرآن سے متصادم نظر آئی ہے تو میں نے اس پر ایک عرصے تک توقف کیا ہے اور ایسی صورت میں اس کو چھوڑا ہے جب مجھ پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی ہے کہ اس حدیث کو ماننے سے یا تو قرآن کی مخالفت لازم آتی ہے یا اس کی زد دین کے کسی اصول پر پڑتی ہے ……اگر کہیں ایسی صورت پیش آتی ہے تو وہاں میں نے بہرحال قرآن مجید کو ترجیح دی ہے ‘‘ ( تدبرِ قرآن ج ۱، مقدمہ ص ۳۰)
اسی اصول کی تشریح توضیح، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیٰ ؒ اس طرح کرتے ہیں :
۱۔ ’’ جن روایات کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضور ﷺ لکھے پڑھے تھے ، یا بعد میں آپ ﷺ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا وہ اول تو پہلی ہی نظر میں رد کر دینے کے لائق ہیں کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی روایت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی ‘‘ ( تفہیم القرآن ج ۳، العنکبوت حاشیہ ۴۱)
۲۔ ’’ جہاں قرآن مجید کی صراحت موجود ہو وہاں اخبار آحاد کی بنا پر کوئی دوسری رائے نہیں قائم کی جا سکتی ‘‘ (تفہیم القرآن ج ۴،سورۃ الدخان حاشیہ ۳)
۳۔ ’’یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ علم کا جیسا مستند اور معتبر ذریعہ قرآن مجید ہے ، ویسا مستند اور معتبر ذریعہ حدیث نہیں ہے ، اس لیے صحت کا اصلی معیار قرآن ہی ہونا چاہیے ۔ جو چیز قرآن کے الفاظ یا اسپرٹ کے مخالف ہو گی اسے ہم یقینا رد کر دیں گے اور اس کا مخالف قرآن ہونا ہی اس امر کا بین ثبوت ہو گا کہ رسول اﷲ ﷺ سے وہ چیز ہر گز ثابت نہیں ہے ‘‘۔ (تفہیمات حصہ اول ، ص ۳۷۴)
۴۔ ’’ یہ بات کتاب الٰہی تو درکنار معمولی انسانوں تصنیفوں کے لیے بھی معیوب ہے کہ اس کے اپنے الفاظ اس کا مدعا ظاہر کرنے سے اسی وجہ سے قاصر ہوں کہ اگر ایک خاص روایت اس کی تشریح کرنے والی سامنے نہ ہو تو ناظر اس کا بالکل الٹا مطلب لے گا۔ روایت اگر اصل متن کے متبادل مفہوم کی مزید تشریح کرتی ہو تواس کے مفید ہونے میں کلام نہیں لیکن اگر وہ متبادل مفہوم سے ہٹا کر بات کو کسی اور طرف پھیر لے جائے تو ایسی روایت کو شارح کے بجائے متمم کہنا پڑے گا، اور اس سے لازم آئے گا کہ اس متمم کے بغیر قرآن ناقص ہے ‘‘ ( تفہیمات حصہ دوم، ص ۵۵۔۵۴)
اسی ضمن میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں :
ہمارے نزدیک یہ اصول کہ سنت قرآن مجید کے احکام میں کسی نوعیت کا تغیر و تبدل کر سکتی ہے ، عقل و نقل ، دونوں کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے ‘‘ (برہان ، رجم کی سزا ، ص ۳۷) اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : ’’ سنت کے یہ اوامر و نواہی دو قسم کے معاملات سے متعلق ہو سکتے ہیں : ایک وہ جن میں قرآن مجید بالکل خاموش ہے اور اس نے صراحتہً یا کنایتہ کوئی بات نہیں فرمائی ہے اور دوسرے وہ جن میں قرآن مجید نے نفیایا اثباتاً کوئی حکم دیا ہے یا کوئی اصول فرما دیا ہے ۔ پہلی قسم کے معاملات میں اگر سنت کے ذریعے سے کوئی حکم باقاعدہ ہمیں پہنچے تو اس کے بارے میں باعتبار اصول کسی بحث ونزاع کا سوال نہیں ہے ۔ اس طرح کے معاملات میں سنت بجائے خود مرجع و ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان معاملات میں ہمارا دائرہ عمل بس یہ ہے کہ ہم ان کا مفہوم و منشا متعین کریں اور اس کے بعد بغیر کسی تردد کے ان پر عمل پیرا ہوں ۔
رہے دوسری قسم کے معاملات ، یعنی وہ جن میں قرآن مجید نے کوئی حکم باقاعدہ بیان فرمایا ہے تو ان کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ سنت نہ قرآن کے کسی حکم اور کسی قاعدے کو منسوخ کر سکتی ہے اور نہ اس میں کسی نوعیت کاکوئی تغیر و تبدل کر سکتی ہے ۔ سنت کو یہ اختیار قرآن مجید نے نہیں دیا اور اب کسی امام و فقیہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بطور خود سنت کے لیے یہ اختیار ثابت کرے ‘‘ ( برہان ، رجم کی سزا ، ص ۳۹۔۳۸)
اسی مقالے میں دوٹوک انداز میں آپ نے لکھا ہے کہ :
’’ قرآن مجید کے خلاف کوئی بات ، خواہ وہ پیغمبر ہی کی طرف منسوب کر کے کیوں نہ کہی جائے ، کسی حال میں قبول نہیں کی جا سکتی (اس لیے کہ پیغمبر کی طرف اس کی نسبت کسی حال میں صحیح نہیں ہو سکتی ‘‘ ( ایضاً ، ص ۵۶)
علمائے کرام کی تصریحات اور قرآن و حدیث کے تعلق کے متعلق اسی اصول کے تحت ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ اﷲ تعالیٰ نے سورۃ یونس میں بالصراحت یہ قاعدہ بیان کر دیا ہے کہ نبی ﷺ کو بھی قطعا ً اجازت نہیں کہ وہ کسی کو زبردستی مومن بنانے کی کوشش کرے اس لیے نبی اکرم ﷺ سے منسوب مسلم کی یہ روایت قبول نہیں کی جا سکتی کہ آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اسی غرض کے لیے جنگ کرتے پھریں ۔
مسلم کی یہ روایت ہو یا بخاری کی روایت ’’من بدل دینہ فاقتلوہ‘‘ قرآن مجید کی دی ہوئی آزادی کی نفی کرتی ہیں لہذا ناقابلِ قبول ہیں ۔ اس ضمن میں ، آخر میں ہم محترم محمد عمار خان ناصر صاحب کی کتاب حدود و تعزیرات کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جو اس پوری بحث پر ہماری طرف سے تبصرہ ہوگا، ( اگرچہ وہ اس کو محدود معنی میں ہی استعال کرتے ہیں ) کیونکہ ہم ارتداد کی سزا کو اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ارادہ اختیار کی اس آزادی کو دنیا میں رشد و ہدایت کے باب میں اﷲ تعالیٰ کی اسکیم کے بالکل خلاف سمجھتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں امتحان اور آزمائش کے لیے بھیجا ہے اور اس مقصد کے لیے حق کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں پوری آزادی بخشی ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے ایمان کے معاملے میں اصل اعتبار انسان کے اپنے ارادہ و اختیار کا ہے ۔ چنانچہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس معاملے میں کسی دوسرے انسان کو جبرو اکراہ کے ساتھ ایمان و اسلام کی راہ پر لانے کی کوشس کرے اور نہ اس طرح کے ایمان کو اﷲ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وقعت حاصل ہے ( سورۃ یودنس :۱۰۰۔۱۰/۹۹) ارادہ و اختیار کی یہ آزادی دنیا میں رشد و ہدایت کے باب میں اﷲ تعالیٰ کی اسکیم کا بنیادی ضابطہ ہے اور اسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے دین کے معاملہ میں کسی قسم کے جبر و اکراہ کا طریقہ اختیار نہیں ۔ ( البقرۃ 2/256) ‘‘ (حدود و تعزیرات ۔ ص 207)

December 10, 2015
icon-contribute

مرتد کی سزا اور قانونِ اتمامِ حجت

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم انورباسی ’’اﷲ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامتِ صغریٰ […]
October 30, 2015
Asharya-Afkaar-e-Maududi

Asharya Afkaar-e-Maududi

Asharya Afkaar-e-Maududi
May 9, 2014
bank-interest

Bank Interest: Profit or Riba

Pellentesque et lacus pretium tincidunt. Pellentesque at metus. Donec nisl a nisl. Vestibulum ante ipsum primis in nulla orci ut leo nec cursus consequat, orci ut

May 8, 2014
Insaniyat-Hidayat-Ki-Talash-Main

Insaniyat Hidayat Ki Talash Main

Nunc felis. Curabitur ac ipsum. Pellentesque nibh ultricies est. Maecenas consequat, augue a venenatis risus. Ut id mollis vel, lacinia quam. Praesent blandit malesuada. Suspendisse commodo