تحریر: محمد انور عباسی

بسا اوقات، کچھ تصورات معاشرے میں اس طرح جڑ پکڑ لیتے ہیں کہ وہ ایک عقیدے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور پھر یہ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی کہ اس بارے میں مزید کچھ سوچا جائے۔ اسی طرح کے تصورات میں ہمارے دینی لٹریچر میں نبی اور رسول کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔
علما کے ایک طبقے میں یہ عقیدہ کافی مشہور ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہے ۔ قدیم علما کے نزدیک فرق کی وجوہات کچھ اور ہیں اور جدید علما کے نزدیک کچھ اور۔درج ذیل سطور میں ان سب دلائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
بعض قدیم علما کا ارشاد ہے کہ نبی عام ہوتا ہے اور رسول خاص۔ دوسرے الفاظ میں ہر رسول نبی توہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہو تا۔ان کا فرمانا یہ ہے کہ رسول تو صاحبِ کتاب ہوتا ہے جب کہ نبی پر کتاب نازل نہیں کی جاتی۔ ان علما کی نظر میں رسول صرف چار گزرے ہیں جن پر کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ یعنی حضرت داؤدؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمدﷺ جن پر بالترتیب زبور، توراۃ، انجیل اور قرآن نام کی کتابیں نازل ہوئیں۔ یہ تمام حضرات ، حضرت اسمٰعیلؑ،حضرت اسحٰقؑ،حضرت یعقوبؑ،حضرت یوسفؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت ہارون ؑ، حضرت زکریاؑ، حضرت یحیٰ ؑ، حضرت الیاس ؑ،حضرت الیسعٰ ؑ ، حضرت یونس ؑ ، حضرت لوط ؑ، حضرت شعیب ؑ وغیرہ کو رسول نہیں مانتے بلکہ نبی مانتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ان کو کتاب نہیں عطا کی گئی۔ ان میں سے بھی بعض یہ کہتے ہیں کہ نبی پر کتاب تو نہیں البتہ صحیفے نازل ہوا کرتے تھے۔
قطع نظر اس سے کہ یہ محض دعویٰ بلا دلیل ہے، ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم اس بارے میں کیا ارشاد فرماتا ہے۔
۱۔ کیا صرف رسول صاحبِ کتاب ہوتا ہے یا ہر نبی کو کتاب عطا کی گئی ہے؟۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
۱۔ کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللۃ النبین مبشرین و منذرین و انزل معھم الکتب بالحق۔۔۔(البقرہ۔۲۱۳) ترجمہ: (پہلے) لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر ( جب اختلاف ہوا تو) اﷲ تعالی ٰ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے نبی مبعوث فرمائے اور ان پر حق کے ساتھ کتابیں نازل فرمائیں۔یہ آیت اس معاملے میں صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ اﷲ تعالی ٰ نے انبیاء ؑ بھیجے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں۔ اب جس جس فرد پر نبی کا اطلاق ہوتا ہے اس پر کتاب نازل کئے جانے کی اطلاع بھی قرآن دے دیتا ہے۔
۲۔ و وھبنا لہ اسحق و یعقوب۔۔۔و من ذریتہ داود و سلیمٰن و ایوب و یوسف و موسیٰ و ہٰرون۔۔۔ہ زکریا و یحیٰ و عیسیٰ و الیاس۔۔۔و اسمٰعیل والیسع و یونس و لوطا۔۔۔ اولئک الذین اٰتینٰھم الکتٰب و الحکم والنبوۃ۔ (الانعام۔۸۴۔۸۸) سورہ الانعام کی ۸۴ سے ۸۸ تک کی آیات میں انبیاءؑ کانام لیا گیا ہے۔ اور آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو نبوت اور کتاب دی گئی ہے۔ عام خیال کے مطابق یہ حضرات (ما سوائے حضرت داود اور اموسیٰ) رسول نہیں، محض نبی ہیں اس لیے ان کو کتاب نہیں دی گئی۔ مگرقرآن ان سب کا نام لے لے کر بتا تا ہے کہ یہ حضرات نبی ہیں اور ان کو کتاب دی گئی ہے۔
۲۔ صحیفے اور کتاب میں کوئی فرق ہے؟ جن حضرات کا دعویٰ ہے کہ انبیاءؑ کو کتاب تو نہیں البتہ صحیفے دیے گئے ہیں، خیال اس طرف جاتا ہے کہ یہ حضرات کتاب اور صحیفے میں فرق کرتے ہیں۔ لغت میں یہ ہم معنی مستعمل ہوئے ہیں۔ المنجد میں ہے: ’’ المصحف:کتاب، مجلد کتاب، قرآن مجید، جمع مصاحف‘‘ مفردات القرآن (امام راغب اصفحانی) میں مذکور ہے کہ: ’’ وہ چیز جس میں کچھ لکھا جاتا ہے۔ کتاب‘‘ اسی طرح مترادف القرآن میں بڑی تفصیل سے درج ہے کہ: ’’کتاب کے لیے قرآن میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔کتاب، اسفار، سجل، نسخہ، زبر، صحف‘‘ ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لغت میں اور قرآن میں صحیفے اور کتاب میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔
قرآن میں ارشاد ربّانی ہے: ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ۔ صحف ابرٰھیمٰ و موسیٰ ( الاعلیٰ۔ ۱۸۔۱۹) آیت نمبر ۱۹ میں حضرت ابراھیم ؑ اور حضرت موسی ٰ کی کتابوں کو صحیفے کہا گیا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ توراۃ جو حضرت موسی ٰ پر نازل ہوئی اس کو صحیفہ کہا گیا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: رسول من اﷲ یتلوا صحفامطھرۃ۔ (البینہ۔۲) یعنی اﷲ کی طرف سے جو رسول آئے ہیں وہ پاک صحیفے کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس آیہ مبارکہ میں قرآن کو صحیفہ کہا گیا ہے۔ دوسرے الطاظ میں چار مشہور کتابیں ہی پاک صحیفے ہیں۔ یعنی آسمانی کتابوں کہ ہی صحیفے کہا گیا ہے۔
جدید علماء میں مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم و مغفور اور ان کے شاگرد رشید محترم جاوید احمدغامدی صاحب کا نام سرِ فہرست ہے۔ اس ضمن میں مولانامحترم امین احسن اصلاحی صاحب علیہ الرحمہ اپنی شہرہ آفاق تفسیر تدبرِ قرآن جلد دوم میں سورہ اٰلِ عمران کی آیت ۵۴ کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’ اوپر ہم یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ انبیا میں سے جو رسول کے درجے پر فائز ہوتے ہیں وہ اپنی قوم کے لیے عدالت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ذریعے سے لازماً قوم کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ رسول اور اس کے ساتھیوں کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے مخالفین شکست کھاتے ہیں قطع نظر اس سے کہ یہ غلبہ رسول کی موجودگی میں حاصل ہو یا اس کے رخصت ہو چکنے کا بعد۔ سیدنا مسیحؑ کے متعلق قرآن کی تصریح کی روشنی میں اوپر معلوم ہو چکا ہے کہ وہ صرف نبی ہی نہیں تھے بلکہ ’ رسولا الی بنی اسرائیل‘ بنی اسرئیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کے منصب کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ ان کے متبعین کو ان کے مخالفین پر وہ غلبہ حاصل ہوتا جس کی اس آیت میں بشارت ہے۔ لاغلبن انا و رسلی والی آیت میں بھی اسی سنت اﷲ کا بیان ہے۔ یہی وہ عدالت ہے جس کا ذکر انجیلوں میں بار بار آتا ہے۔ رسولوں کی اس امتیازی خصوصیت کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ ان کے دشمنوں کہ یہ مہلت نہیں دیتا کہ وہ ان کو قتل کردیں۔ چنانچہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں‘‘۔ ( تدبرِ قرآن جلد دوم صفحہ ۱۰۶) ہمیں فی الحال اس سے بحث نہیں کہ کون رسول غالب آیا یا نہیں، بلکہ اس طویل اقتباس میں سے صرف آخری جملے سے غرض ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے، اور فرق یہ ہوتاہے کہ رسول کو قتل نہیں کیا جاسکتا تھا وہ ہمیشہ غالب آ کر رہتا تھا (چاہے اس کی موت کے بعد اس کے پیروکاروں کے واسطے سے)۔نبی تاہم قتل بھی کئے جا سکتے تھے۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے مولانا محترم کا یہ جملہ قابلِ غور ہے کہ : ’’چنانچہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں۔‘‘ ہمیں فی الحقیقت حیرت سے زیادہ صدمہ ہوا کہ مولانا محترم سے یہ کس طرح کی چوک ہو گئی۔
اسی سورہ اٰلِ عمران کی آیت نمبر ۱۸۳ میں رسولوں کے قتل کئے جانے کاذکر ہے۔ ہم اپنی طرف سے کچھ کہے بغیر خود مولانا محترم کی تدبرِ قرآن کی اسی جلد ۲ میں سے اس آیت کی تشریح نقل کرتے ہیں۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’ یہ عذر یہود نے محض شرارت سے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، گھڑا تھا اس وجہ سے قرآن نے ان کے ذہن کو سامنے رکھ کر جواب دے دیا کہ ان سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے ایسے رسول آ چکے ہیں جو نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے اور وہ معجزہ بھی انھوں نے دکھا یا جس کا تم نے ذکر کیا تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ ( تدبرِ قرآن جلد دوم ، صفحہ ۲۲۰ )۔ حیرت اس پر ہے کہ جب وہ خود رسولوں کے قتل کئے جانے کے قائل ہیں تو محض رسول اور نبی میں فرق ثابت کرنے کے لیے انہوں نے یہ کیوں لکھا کہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں؟ اس کا ثبوت تو مولانا خوددے رہے ہیں۔ یہ تو اسی ایک سورہ اٰلِ عمران میں ان کی تشریحات ہیں۔ تدبرِ قرآن کی اسی جلد دوم میں سورہ المائدہ کی آیت نمبر ۷۰ میں رسولوں کے قتل کئے جانے کی تصریح ہے۔ اس کی تشریح مولانا محترم نے ان الفاظ میں کی ہے۔: ’’اب یہ اس بات کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ کیوں ان اہل کتاب کی اﷲ تعالیٰ کے ہاں کوئی دینی حیثیت نہیں ہے۔ فرمایا کہ ان سے جس کتاب و شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا اور جس کی تجدید اور یاد دہانی کے لیے اﷲ نے یکے بعد دیگرے اپنے بہت سے رسول اور نبی بھی بھیجے، اس عہد کو انھوں نے توڑ دیا اور جو رسول اس کی تجدید اور یاد دہانی کے لیے آ ئے ان کی باتوں کو اپنی خواہشات کے خلاف پا کر یا تو ان کی تکذیب کر دی یا ان کو قتل کر دیا‘‘ (تدبرِ قرآن جلد دوم، صفحہ ۵۶۶) ۔ ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جدید علما جن کے نزدیک نبی اور رسول میں یہ فرق تھا کہ نبی کو قتل کیا جا سکتا تھا اور رسولوں کو قتل نہیں کیا جا سکتا تھا، چنانچہ ان کے نزدیک رسولوں میں سے کسی کا قتل بھی ثابت نہیں تھا ،اب جب کہ وہ خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فی الواقع رسول بھی قتل کئے گئے ہیں تو اس دلیل کی بنیاد پر رسول اور نبی میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا؟
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں نبی اور رسول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ پس کسی شخص کو رسول نبی کہنے کا مطلب یا تو عالی مقام پیغمبر یا اﷲ کی طرف سے خبریں دینے والا پیغمبر، یا پھر وہ پیغمبر جو اﷲ کا راستہ بتانے والا ہے۔ قرآن مجید میں یہ دونوں الفاظ با لعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ۔ لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے یا کام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی کی الگ الگ حیثیتوں کا تعین نہیں کر سکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول کا لفظ نبی کی نسبت خاص ہے۔ یعنی ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔‘‘ (تفہم القرآن جلد سوم، سورہ مریم: حاشیہ ۳۰)
مولانا محترم یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں نبی اور رسول با لعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آج تک قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی میں فرق واضح نہیں کر سکا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ رسول کا لفظ نبی کی نسبت خاص ہے۔اب اس کے لیے مولانا محترم نے کوئی دلیل نہیں دی جس کو جانچا جا سکے۔کسی دلیل کی عدم موجودگی سے ہمیں یہ سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے کہ جب ’’قطعی دلائل کے ساتھ کوئی بھی رسول اور نبی میں فرق واضح نہیں کر سکا چنانچہ کسی کی الگ الگ حیثیتوں کا تعین نہیں کر سکا ہے‘‘ تو پھر رسول کا لفظ کس طرح خاص ہو گیا؟ آخرقرآن میں مذکور وہ کون سی ہستیاں ہیں جن کو نسبتاً کم اہم منصب عطا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ نبی کہلاتی ہیں اور جن کو ہم رسول نہیں کہہ سکتے؟
حقیقت یہ ہے اصطلاحی مفہوم میں نبی اور رسول میں فرق کیا ہی نہیں جا سکتا۔ البتہ لغوی اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نبی اﷲ کی طرف سے خبریں لانے والا اور رسول اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے والا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ اسی لئے سورہ الاحزاب میں ختمِ نبوت کا تو اعلان کیا گیا کہ اب کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کواﷲ کی طرف سے خبریں ملتی ہیں۔ وحی کا سلسلسہ ہی ختم ہو گیا۔ تا ہم کارِ رسالت جاری ہے یعنی اﷲ کا پیغام اﷲ کے بندوں تک پہنچانااب امتِ مسلمہ کا کام ہے۔ اسی کو دعوتِ دین کہا جاتا ہے ۔

December 18, 2015
icon-contribute

نبی اور رسول میں فرق

تحریر: محمد انور عباسی بسا اوقات، کچھ تصورات معاشرے میں اس طرح جڑ پکڑ لیتے ہیں کہ وہ ایک عقیدے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں […]
December 10, 2015
icon-contribute

مرتد کی سزا اور قانونِ اتمامِ حجت

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم انورباسی ’’اﷲ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامتِ صغریٰ […]
October 30, 2015
Asharya-Afkaar-e-Maududi

Asharya Afkaar-e-Maududi

Asharya Afkaar-e-Maududi
May 9, 2014
bank-interest

Bank Interest: Profit or Riba

Pellentesque et lacus pretium tincidunt. Pellentesque at metus. Donec nisl a nisl. Vestibulum ante ipsum primis in nulla orci ut leo nec cursus consequat, orci ut