Articles

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

’’ اہل رشد کی خدمت میں ‘‘

محمد انور عباسی

کوئی پچیس ، تیس برس ہوتے ہیں جب سعودی عرب میں احمددیدات مرحوم کی ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا جو ان دنوں کافی مشہور تھی ۔ ایک عیسائی پادری صاحب سے ان کا مناظرہ تھا ۔ ہال ناظرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ موضوع تھا ’’ کیا بائیبل خدا کا کلام ہے ؟‘‘۔

افتتاحی کلمات میں احمد دیدات مرحوم نے میز پر رکھی ہوئی تین چار کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ: ’’ یہ بائبل فلاں سن میں شائع ہوئی اور یہ دوسری اور تیسری فلاں فلاں سن میں شائع ہوئی ہیں ۔ ان سب میں واضح فرق ہے جس کو ہر کوئی ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ کیا آپ قرآن کا کوئی ایسا نسخہ دکھا سکتے ہیں جو دوسرے سے مختلف ہو؟ ـ‘‘  اس سوال کا پادری سمیت ہال میں کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔

لیکن یہ بیسویں صدی کی بات تھی ۔ آج اکیسویں صدی کا پہلا عشرہ قریب الاختتام ہے ۔ لاہور سے شائع ہونے والے ایک ماہنامے ’’ رشد‘‘ کی  قراء ات نمبر کے دو حصے میرے سامنے ہیں ۔میرا گمان ہے کہ ’’رشد‘‘ کے یہ دو حصے اگر تین دہائی قبل احمددیدات مرحوم کے سامنے ہوتے تووہ پادری صاحب سے اس قسم کا سوال پوچھنے کی جسارت نہ کر سکتے ۔  ’’رشد ‘‘ کی قراء ات نمبر کا تیسرا حصہ غالبا ً ایک دو ماہ  بعد آنے والا ہے ۔ تاہم ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دو نمونے دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتاہے  کہ تیسرا حصہ بھی ان ہی مضامین کی تکرار ہو گا۔ موجودہ دو حصے 1656صفحات پر محیط ہیں  جن میں 99  مضامین  شامل کیے گئے ہیں ۔

مقصد اگر ’’علمی رعب‘‘  و دبدبہ جمانے کا نہ ہوتا تو شاید سو ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل کوئی سے بھی آٹھ دس مضامین ہی کافی ہوتے جو تمام مذکورہ نکات سمیٹ لیتے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہ اہم نکات قارئین کے سامنے آجائیں ۔

ا)             سبعہ احرف :

بخاری شریف کی اس حدیث کا مفہوم ماضی بعید میں تو معلوم نہ ہو سکا تھا ، تاہم ماہنامہ ’’ رشد‘‘ نے جو ہماری رہنمائی فرمائی ہے وہ درج ذیل ہے:

یہ سہولت کس کے لیے :

۱)            ’’الغرض عربی زبان ہی کے حوالے سے لوگوں کو یہ مشکل پیدا ہوئی تھی اور یہ مشکل تاقیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ۔ اب میرے اور آپ جیسے لوگوں کے لیے تو عربی کا کوئی بھی لہجہ ہو تو وہ ہم نے غیر فطری طور پر ہی سیکھنا ہے ۔۔۔ چنانچہ ہمارے لیے تو کوئی بھی لہجہ مشکل یا آسان نہیں ہے ، بلکہ تمام لہجے برابر ہیں ‘‘ ۔  ( حافظ حمزہ مدنی ۔ رشد حصہ اول ، ص 246)

۲)            ’’یہ بات ٹھیک ہے کہ اس مشقت کے حوالے سے آسانی کی وجہ صحابہ ؓ بنے  لیکن اب  وہ آسانی صرف صحابہ ؓ کے لیے نہیں ہے ۔ بلکہ قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے ہے ‘‘ ۔ ( حافظ حمزہ مدنی ۔ رشد حصہ اول ، ص 251)

۳)            ’’ قرآن چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے ، اس لیے قرآن مجید میں عربی زبان کے حوالے سے کوئی مشکل کا احساس پایا جائے  اور اس مشکل کے اعتبار سے  کچھ سہولت دے دی جائے ، تو اس حوالے سے خاص اہلِ عرب کے لیے ہی اس مشقت کا ازالہ کیا جائے گا‘‘  ( حافظ حمزہ مدنی ۔ رشد حصہ اول ، ص 354)

۴)            ڈاکٹر مفتی  عبدالواحد صاحب کا ارشاد ہے کہ یہ سہولت ساری امت کے لیے لیے تھی،  وہ فرماتے ہیں ۔ ’’ دوسری قسم کی احادیث میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی درخواست و مطالبہ پر فرمایا گیا کہ آپ کی امت سات طریقوں سے پڑھے‘‘ ( رشد حصہ اول ، ص 130) واضح رہے کہ احادیث میں ’’ امت ‘‘ ہی کے الفاظ آئے ہیں ۔

۵)            ابو مجاہد عبدالعزیز القاری لکھتے ہیں  : ’’ ابن جریر کے ہاں عبیداللہ بن عمر کی روایت سے یہ الفاظ ہیں :  میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپﷺ کو ایک حرف پر قرآن پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یا اللہ !  میری امت پر تخفیف کیجئے ۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک حرف پر ہی قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں ۔ میں نے دعا کی کہ یا اللہ ! میری امت پر تحفیف فرمائیے ۔    ( رشد حصہ اول ، ص 109)مزید لکھتے ہیں  ’’ ابن جریر ہی کے ہاں ابن فیصل کی روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حرف پر قرآن کی تلاوت کا حکم دیا ۔ میں نے رب سے دعا کی کہ میری امت کے لیے آسانی کی جائے …‘‘  ( رشد حصہ اول ، ص 110)

ہم اپنی اس حیرانی و پریشانی کو سردست چھوڑ دیتے ہیں کہ یہی علماء کرام  ہمیں تو سمجھاتے  آئے تھے  کہ نبی اللہ کے ہر حکم پر  بحث کرنے کے بجائے سب سے پہلے عمل کرنے والا ہوتا ہے  ( انا اول المسلمین۔القرآن )  لیکن اس مسئلے کو تو جانے دیجئے کیونکہ روایات کی روشنی میں قرآن کے حکم کو تبدیل کرنا ان حضرات کے لیے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔ اب یہ حضرات یہ کہتے ہیں  تو یہی  درست ہو گا  تاہم نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ عبدالعزیز القاری صاحب سعبہ احرف والی سہولت عربوں کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے  تسلیم کرتے ہیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ موصوف آسانی کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ’’  بہیقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ  آپ غفور رحیم کو علیم کلیم ، سمیع علیم یا عزیز حکیم وغیرہ سے (تبدیل کرکے) کہہ سکتے ہیں ‘‘۔  ( رشد حصہ اول ، ص 110)

چلیے سہولت کس کے لیے تھی ؟  پوری امت کے لیے یا صرف اہلِ عرب کے لیے ، یہ مسئلہ تو حل ہوا ۔ اب دیکھیں کہ ’’رشد‘‘ سبعہ احرف کا مفہوم کیا بتاتاہے ؟

ب۔           سبعہ احرف کا مفہوم :

بھئی مان لیتے ہیں کہ متقدمین یہ مسئلہ حل نہ کر سکے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’رشد‘‘ بھی ہار مان لے ؟  نہیں صاحب ۔ سبعہ احرف کا مفہوم تو بالکل واضح ہے  یہ آج کل کے چند مخالفین بلکہ منکرین حدیث ، بلکہ منکرین قرآن ہیں  جو اس حدیث شریف کا مطلب گڑبڑ کر ڈالتے ہیں ۔ دیکھئے جناب !

٭             یہ تو محض لہجے  کااختلاف تھا ۔ حافظ حمزہ مدنی صاحب لکھتے ہیں :

’’ ہماری رائے میں سبعہ احرف سے بنیادی طور پر لہجات مراد ہیں ، البتہ ان کے ضمن میں لغات کے قبیل سے بلاغت کے متعدد اسالیب کا اختلاف بھی شامل ہے ۔ ‘‘  ( رشد حصہ اول ، ص 273)

٭             ’’اختلاف قراء ت  کے سلسلہ میں کسی اجنبیت کا شکار ہونے کے بجائے اس کے سلسلہ میں سادہ بصیرت کا استعمال بھی شافی اطمینان دے سکتا ہے ۔ دیکھیے کہ ایک زبان جب مختلف علاقوں اور قبائل میں پھیلی ہوئی ہو تو بسا اوقات اس کے بعض الفاظ کے استعمالات اور لہجوں میں  اتنا فرق ہو جاتا ہے ۔ …اللہ تعالیٰ کی طرف سے سات حروف ( لغات اور لہجات ) میں اتارنے کی ایک اہم حکمت یہ بھی تھی کہ اس کے پہلے مخاطبین ایک ہی لہجے کے تکلف کا شکار نہ ہو ں ‘‘۔ ( رشد ج  ا  اداریہ ، ص 5-6)  ×

×      مولوی صاحب  غالبا ً لغت اور لہجہ کو ایک ہی سمجھتے ہیں ۔ ان کی سادگی پر قربان مگر دنیا کے اہل علم لغت  اور لہجہ  میں فرق کرتے ہیں ، لہجہ (Accent )  تلفظ  یا طرز ادائیگی  اور آواز کے اتار چڑھائو کو کہتے ہیں  جبکہ لغت ایک مختلف بولی ( زبان)  (Dialect) ہوتی ہے ۔  انسائکلو پیڈیا  میں یہ تعریف مل جائے گی ۔

Accent is the way you pronounce  a word. Dialect is a diffrent language or different word.

لہجہ کسی لفظ کی ادائیگی کے طریقے کو کہتے ہیں جبکہ  بولی  ایک مختلف  زبان یا مختلف لفظ ہوتی ہے ۔

مولوی صاحبان ایک ہی سانس میں دو مختلف  باتیں کہہ جاتے ہیں  جس سے وہ تو شاید  نہیں  دیگراہلِ علم یقینا حیرت و تذبذب سے دوچار ہو جاتے ہوں گے ۔ انہیں تو غالباً اس کا احساس ہی نہ ہوتا ہو گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔

٭             جو قرآن  مجید آسمانوں سے اترا ہے وہ صرف سات لہجات میں اترا ہے ۔ ( حافظ حمزہ مدنی  ،رشد  ،ح  ا ، ص 248)

اگرچہ حافظ صاحب نے یا کوئی  بھی دوسرا فرد  کوئی عقلی دلیل نہیں دے سکا کہ سات ہی لہجات کیوں ؟  لہجے درجنوں  نہیں ، سینکڑوں نہیں ، ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ہو سکتے ہیں  ۔ خود عربوں میں  ، اس وقت بھی جب قرآن  نازل ہو رہا تھا  اور آج بھی عرب ممالک  میں ہی نہیں بلکہ سعودی عرب میں کئی لہجات عام ہیں ۔ بات کتنی ہی غیر عقلی کیوں نہ ہو  تاہم حافظ صاحب سبعہ احرف سے مراد لہجات ہی لیتے ہیں ۔

٭             حافظ عبدالرحمن  مدنی صاحب بھی ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اصل میں جس طرح مختلف  زبانوں  اور لہجوں  کا فرق ہوتا ہے  اس طرح عربی زبان میں بھی  لب و لہجہ کا فرق موجود ہے ‘‘  ( رشد ح ا،  ص 41)   مزید فرماتے ہیں : ’’ یہ مختلف  لب و لہجے دیکھ کر بعض لوگ اشکال کا شکار ہو جاتے ہیں  کہ قرآن مجید  میں بھی اختلا ف  ہے حالانکہ  یہ قرآن مجید کا اختلاف نہیں ۔ آسان انداز میں بات یوں سمجھئے  کہ دنیا کی ہر زبان  کے اندر لب و لہجے کا اختلاف ہے ۔ مثال کے طور پر آپ اردو زبان کو ہی لے لیں ، اس میں  ایک لفظ ہے ’ ناپ تول ‘  بعض لوگ اسے  ’ماپ تول  ‘ کہتے ہیں ، اس کے علاوہ  ایک لفظ ’سسر‘  ہے بعض لوگ اسے ’سسر‘ بعض  ’خُسر‘ کہتے ہیں ۔  انگریزی زبان کا  ایک  لفظ ہے  ’شیڈول‘  بعض انگلش بولنے والے  اسے شیڈول اور بعض ’ سیکیجوئل‘ کہتے ہیں ۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ  ایک غلط ہے اور دوسرا صحیح … عرب کے مشہور قبائل جن کی لغتیں  یا لہجے چلتے تھے  وہ سات ہیں : قریش کے علاوہ مشہور  قبیلہ ، تمیم ، ہذیل ، غز، ربیعہ ، ہوازن ، اور ثقیف وغیرہ ‘‘۔  ( بحوالہ سنن ترمذی : 2944 ، رشد ،ح ا،  ص 41)

بڑے حافظ صاحب محترم نے سبعہ احرف سے مراد لہجات لیے ہیں اور وہ بھی سات ۔ لیکن مثالیں بڑی دلچسپ دی ہیں ۔ Schedule  کو شیڈول  اور سکیجوئل پڑھنا تو بلا شبہ لہجے ( Accent) کی مثال ہے۔  لیکن حضور  ’ خسر ‘اور’ سسر ‘ کو کون ہوشمند لہجے کا اختلاف کہے گا۔ یہ تو الفاظ کا اختلاف ہے ۔ ہم اوپر واضح کر آئے ہیں  کہ لہجے کے اختلاف میں ایک ہی  لفظ کو مختلف آواز یا تلفظ سے پڑھا جاتا ہے ۔ مگر لغت  یا زبان کے اختلاف میں  الفاظ ہی مختلف ہوتے ہیں ۔ رہی بات لہجات سات ہی کیوں ؟  تو خود حافظ صاحب نے سات قبائل  کی گنتی کے بعد  لفظ  ’’وغیرہ ‘‘ کا استعمال غالباً غیر شعوری طور پر کر دیا ہے  کہ مشہور قبائل صرف سات ہی نہیں  ہو سکتے تھے ۔

مولانا تقی عثمانی  صاحب نے بجا طور پر اس نقطہ نظر پر تنقید کی ہے کہ:  ’’ بہت سے محقیقین  مثلاً حافظ ابن عبدالبرؒ ،  علامہ سیوطی ؒ اور علامہ ابن الجزریؒ  وغیرہ نے اس قول کی تردید کی ہے ۔ اول تو اس لیے کہ عرب کے قبائل بہت تھے ۔ ان میں صرف سات کے انتخاب کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟‘‘۔ ( رشد  حصہ اول ، ص 143)

۲۔            اعتراضات  اپنی جگہ مگر مسئلہ کچھ کچھ حل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اسی رشد میں کئی علماء کرام نے اس حل کو مسترد کر دیااور فرمایا کہ سبعہ احرف  کا مطلب  سات لہجے تو ہو ہی نہیں سکتے ۔

٭             چنانچہ  محمد فیروز الدین شاہ صاحب نے  ڈاکٹر  طہٰ حسین صاحب کی تردید کر تے ہوئے لکھا ہے کہ:  ’’ غرض وہ قراء ت  سبعہ کو غیر منقولی اور محض لغات و لہجات  قرار دیتا ہے …وہ حدیث سبعہ احرف کو محض ایک روایت کہہ کر رد کر تا ہے … اس شبہ کے ردکے لیے حرف مفردات  قراء ات پر نظر کرنا ہی کا فی ہے ۔ فرش اطروف کے مشاہدہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ تمام قراء ات  لغات  و لہجات نہیں تھے ‘‘  ( رشد  ،ح  ا ،  ص 413)

٭             ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نے ا بن جریر ؒ کے حولاے سے لکھا ہے کہ:  ’’ ابن جریر  ؒ نے سبعہ احرف سے قبائل عرب کی سات لغات مراد  لی ہیں ‘‘  ( رشد ، ح  ا  ص ۱۳۱)

٭             مولانا تقی عثمانی صاحب کتاب کا حوالہ’’ رشد ‘‘نے  خود  دے دیا جو سبعہ احرف کو لہجات نہیں مانتے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس موضوع پر مزید لکھنا محض تکرار ہو گا ، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  اگر’ سبعہ احرف ‘ کے مفہوم میں  متقدمین میں اختلاف تھا تو    ’’ رشد ‘‘ نے آکر کیا خاص کارنامہ سر انجام دیا ؟  اگر اس مسئلے کو حل کیا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی  ’’ رشد ‘‘ کے مطالعہ سے ہمیں تو  یہ معلوم ہوا کہ  :

’’ ان تمام حقائق کے باوجود  جب اس سلسلے میں وارد ہونے والی  جملہ  احادیث  کا بغور مطالعہ کیا جائے  تو ایسی کوئی عبارت ہمیں دستیاب نہیں ہوئی جو  ’سبعہ احرف‘  کی ایسی کامل  اور شافی تفسیر کر دے جس سے نزاع ختم اور اختلاف کے دروازے بند ہو جائیں  ‘‘۔  (  ابو مجاہد  عبدالعزیز  القاری، رشد ، ح ا ، ، ص ۱۲۳)

’’ سبعہ احرف ‘‘  والی حدیث  کے بارے میں پینتیس  اقوال ہو ں یا چالیس  ان سب پر ’’رشد‘‘  کا  ایک یہی قول بھاری ہے ۔ اب جبکہ اس چیستاں کا کوئی ایسا معقول مفہوم دریافت ہی نہیں ہو سکا  تو ’’ اہلِ رشد‘‘ کی مرضی ہے کہ اس پر تمام عمر آپس میں  یا کسی پر منکرِ حدیث کا لیبل لگا کر سرپھٹول کرتے پھریں ، میرا تو نہیں خیال کہ کوئی اہلِ علم ان سے اس میدان میں آ کر پنجہ آزمائی کر سکتا ہے ۔ کیونکہ بعض لوگوں کی ذہنی ساخت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ کسی کی بات سنتے ہی نہیں بس اپنی سنانے پر مصر ہوتے ہیں ۔

’’سبعہ احرف کے سلسلے میں ’’ رشد ‘‘ کی  ’’ عالمانہ‘‘ اور ’’ تسلی بخش ‘‘ گفتگو کے بعد یہ دیکھتے ہی کہ اس کا تعلق سبعہ قراء ت سے کیا ہے ؟  آئیں  ’ رشد‘ سے رہنمائی حاصل کریں ۔

2۔             سبعہ احرف  قراء ات سبعہ ہی ہیں ۔

٭             الشیخ علامہ عبدالفتاح القاضی نے اپنے مضمون بعنوان  ’’ احادیث رسول کی روشنی میں ثبوت قراء ت ‘‘کے تحت سبعہ احرف والی حادیث کا ذکر فرما کر  یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس حدیث کا اطلاق قراء ت  سبعہ ہی پر ہے ۔ ( رشد  ،ح ا ، ص۴۵ )

٭             قاری صہیب احمد صاحب فرماتے ہیں کہ  ’’ یہ بات  تو بدیہی طور پر واضح ہے کہ دین اسلام ’حروف‘ ( قراء ا ت)  میں طعن سے مکمل طور پر کنارہ کش ہے  کیونکہ قراء ات  دین میں اصل  حقیقت  ہیں  ، جیسا کہ ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ قرآن سات حروف  پر نازل کیا گیا  اس  میں جھگڑنا کفر ہے ‘‘ ۔  (رشد  ،ح ا،  ص ۶۵)

حافظ  انس نضر مدنی صاحب کا بھی اصرار ہے کہ:  ’’ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور صحابہ کرام ؓ  نے بالمشافہ آپ ﷺ  سے قرآن سیکھا ۔ صحابہ ؓ سے تابعین ، تابعین سے تبع  تابعین نے یہ حروف سیکھے اور  اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا  یہاں تک کہ معاملہ ان معروف و مشہور قراء سبعہ تک پہنچ گیا ۔  ( رشد  ح ا ۔ ص ۲۸۹)

اسی طرح حافظ حمزہ مدنی صاحب  ( رشد ، ح ا ، ص ۲۷۲)  اور قاری  فہد اللہ مراد صاحب ( رشد  ح ا ، ص ۶۷۱)  بھی اصرار کرتے ہیں کہ سبعہ احرف  کا مصداق  موجودہ قراء ات  سبعہ ( بلکہ قراء ت عشرہ )  ہیں ۔ اس سلسلے میں میاں چنوں کے کوئی شیخ الحدیث  ہیں جن کا نام گرامی حافظ عبدالستار حماد ہے ۔  (رشد  حصہ اول ، ص۱۳) میں ان کا درسِ حدیث سامنے ہے  جن کے تعارفی نوٹ  میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس امتیاز سے نوازا ہے کہ آپ حدیث و علومِ حدیث پر گہری نظر رکھتے ہیں  اور قرآن و علوم قرآ ن  کے بھی مخصص ہے کیونکہ آن جناب  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے کلیہ القرّآن الکریم  سے سند فضیلت رکھتے ہیں ‘‘۔ (لفظ  ’’کیونکہ ‘‘  ہمارا نہیں  بلکہ ادارہ رشد نے اسی طرح لکھا ہے )  یہ صاحب اس وقت میاں چنوں کے کسی الدراسات الاسلامیہ کے رئیس ہیں ۔ اتنے بڑے تعارفی نوٹ کے بعد ان کی اس موضوع پر اچھوتی اور دلنشین  تحقیق ملاحظہ ہو۔   ’’ بہر حال  قراء ت متواترہ  جنہیں  احادیث میں ’’ احرف  سبعہ‘‘ سے تعبیر کیا گیاہے  وہ آج بھی موجود ہیں  اور اس کے انکار کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ‘‘ (ص ۱۶)  اب جس چیز کی کوئی معقول وجہ نہ ہو اس کو’’ بہر حال ‘‘ ظرافت طبع کی وجہ سے ہی بیان کیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ  یہی موصوف یہ بھی ارشاد فرما دیتے ہیں کہ:  ’’ سبعہ احرف ‘‘ سے مراد ان سات آئمہ کی قرا ء ات  ہر گز نہیں ہیں جو اس سلسہ میں مشہور ہوئے ہیں ، کیونکہ پہلا شخص  جس نے ان سات قرا ء ت  کو جمع کرنے کا اہتمام کیا وہ ابن مجاہد ہے جس کا تعلق چوتھی صدی سے ہے ‘‘۔

ہم یقینا  اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی شیخ الحدیث صاحب کے کسی بھی قول کو غلط قرار دیں ۔ ان کا یہ قول یقینا درست ہوگا کہ  ’’سبعہ احرف ‘‘ سے مراد  ان سات آئمہ کی قراء  ات نہیں ۔ اور یہ بھی  بلا شک و شبہ درست ہو گا کہ سبعہ احرف  سے مراد ہی قراء ات متواترہ ہیں جو آج کل موجود ہیں ۔  البتہ  جو ان کے اقوال میں شک کرے  وہ منکرِ حدیث اور متجدد ہے ۔  اب اگر اپنے آپ کو کسی اہل حدیث یا شیخ الحدیث کے نزدیک معتبر تسلیم کروانا یا اپنی پگڑی بچانا ہے تو لازماً ان کے اقوال مبارکہ کو  ’’معقول‘‘  ہی تسلیم کرنا ہو گاورنہ گئے دونوں جہان سے ۔

اسی موضوع پر  ماہنامہ ’’ طلوع اسلام ‘‘  میں جناب جمیل احمد عدیل کے شائع شدہ مضمون پر تنقید کرتے ہوئے  محترم قاری  محمد صفدر صاحب ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں  کہ ’’ ہم اس ضمن میں صرف اتنا عرض کریں گے کہ جو حدیث آپ نے عمر و ہشام والی نقل فرمائی ہے  اگر آپ اس پر ہی غور کرتے ( جو شاید بغض حدیث کی وجہ سے نصیب نہ ہو ا)  تو معلوم ہو جاتا کہ احرف سبعہ  اور قراء ات  سبعہ کوئی الگ الگ چیز نہیں ہیں ‘‘ ۔

ہم محترم قاری صاحب سے صرف اتنی گزارش کریں گے کہ وہ ہمت کر کے دیوبندی عالم محترم  ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب پر بھی بغض حدیث کا فتویٰ جڑ دیں کیونکہ انہوں نے بھی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ’’ عام طور پر علما وقراء حضرات  ان سب ( سبعہ احرف والی) حدیثوں کا ایک ہی مضمون مانتے ہیں ، اس لیے ان کو ایک دوسرے پر محمول کرتے ہیں ، لیکن اس صورت میں حروف سبعہ کی جو بھی تفسیر کی جائے وہ ایسی نہیں کہ اس پر کوئی اعتراض و اشکال نہ رہتا ہو‘‘  ( رشد ، ح ا ، ص ۱۳۱)

اس سے بڑھ کر ایک دوسرے دیوبندی ممتاز عالم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی رائے  سے تو معلوم ہوتا ہے  کہ قاری محمد صفدر صاحب و دیگر اہل حدیث کی رائے تو بالکل ہی غلط اور باطل ہے  چنانچہ  ان کا ارشاد غور سے پڑھیں : ’’ بعض حضرات ( مثلاً مدنی حضرات و قاری محمد صفدر وغیرہ )  یہ سمجھتے ہیں کہ اس (یعنی سبعہ احرف) سے مراد سات مشہور قاریوں کی قراء تیں ہیں ، لیکن یہ خیال تو بالکل ہی غلط اور باطل ہے ‘‘  ( رشد ، ح ا ، ص ۱۴۲)

یہ خیال مبارک، کئی لکھاریوں نے حصہ دوم میں بھی ظاہر کیا ہے کہ سبعہ احرف دراصل سبعہ قراء ات  ہی ہیں ۔ مثلاً مولانا بشیر احمد عثمانی  ( ص۵۳) ،  صہیب احمد میر محمدی ( ص ۷۴)  ،ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر ( ص ۱۵۲)  ،قاری محمد عزیز  ( ص ۱۶۵) ، قاری محمد ادریس  العاصم ( ص ۲۶۳)  وغیرہ  جبکہ اس کی تردید کرنے والے بھی بے شمار حضرات موجود ہیں ۔ جن کی کئی مثالیں  حافظ محمد مصطفی راسخ  کے عربی اور مولانا  محمد اصغر صاحب کے اردو میںجمع شدہ فتاویٰ میں مل جاتی ہیں ۔

جمیل احمد عدیل صاحب  پر تو  بغض حدیث رکھنے کا فتویٰ  لگا دیا گیا  کیونکہ  ان کا مضمون طلوع اسلام میں شائع ہوا تھا  مگر محترم مفتی عبدالواحد صاحب ،  بالخصوص مولانا  محمد تقی عثمانی  صاحب پر  یہ فتویٰ  اس لیے لگانا ممکن نہیں کیونکہ ان کے مضامین  ’’ رشد ‘‘  میں شائع ہوئے ہیں ۔ البتہ  ان کے مطابق  قاری صفدر صاحب کا موقف تو بالکل غلط  اور باطل ہے چاہے انہوں نے  بغض حدیث میں یہ کہا ہو یا حبِ حدیث میں،  ویسے ہمیں یہ بخوبی علم ہے کہ  احناف اور  دیوبندیوں کو یہ حضرات کن کن ناموں سے یاد کرتے رہتے ہیں ۔

۳۔            اس سلسلے میں رشد کے چند اور خیالات سے مستفید ہوتے چلیں تو  چنداں مضائقہ نہیں :

(ا)           ’ بالعموم تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سبعہ احرف سے مراد سات لغات ہیں ۔ ہماری رائے میں  بھی یہ توجیہ و رائے  ہی قوی ہے ‘‘

( حافظ حمزہ مدنی ، رشد  ح ا ، ص ۲۶۸)

(ب)         ’’ حروف  سبعہ کی تعین میں بہت اختلاف ہے بعض لوگوں نے اس سے سات لغات مراد لی ہیں  لیکن یہ صحیح نہیں کینوکہ سید نا عمرؓ اور ہشام ؓ دونوں قریشی تھے ، ان کی لغت ایک تھی اس کے باوجود  ان کا اختلاف ہوا۔ یہ کوئی معقول بات نہیں کہ رسول ﷺ ایک ہی آدمی کو  قرآن مجید ایسی لغت میں سکھائیں جو اس کی لغت نہ ہو‘‘  ( ابو محمد حافظ عبدالستار حماد ، رشد ح ا ، ص ۱۴)

محترم حافظ حمزہ مدنی صاحب یہ ضرور  بتائیں کہ آپ ایسی ’’نامعقول ‘‘ بات اپنے نبی ﷺسے کیوں منسوب کرتے ہیں ؟

(ج)          قاری صہیب احمد صاحب  رشد ،ح  ا، ص ۶۰ پر تو ابن ساعانی  ؒ  کے حوالے سے  ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ قراء ات سبعہ متواترہ ہیں ، ہاں  قرآن کا بعض حصہ غیر متواتر ہے جیسا کہ مالک اور ملک وغیرہ ، لیکن صفحہ  ۶۱  پر امیر بادشاہ کے حوالے سے  لکھتے ہیں : ’’ قرآن سارے کا سارا متواتر ہے ‘‘

(د)           حافظ انس نضر مدنی صاحب ایک جگہ ( رشد ، ح ا ، ص ۲۹۴)  میں فرماتے ہیں : ’’ وہ قراء ا ت جن کی سند متواتر  یا مشہور نہ ہو انہیں قراء ات  شاذہ کہا جاتا ہے ، بطور قرآن ان کی تلاوت جائز نہیں لیکن فوراً  ہی اگلے صفحہ ( ۶۱)  میں یہ تحقیق بھی قارئین کی نظر کرتے ہیں کہ’’  تیسری  قسم  یعنی احاد  قراء ات جو اگرچہ قراء ات شاذہ میں شامل ہے لیکن بعض علماء اسے نماز میں پڑھنے کے جواز کے قائل ہیں ‘‘ ۔

(ر)          انکار قراء ات  کے حکم کے تحت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب صریحاً لکھتے ہیں کہ انکار قراء ات  کے باعث کوئی کافر نہیں ہوگا ( رشد ، ح ا ، ص ۱۴۰)  جبکہ قاری  صہیب احمد صاحب  کا ارشاد ہے کہ منکرِ قراء ات کافر ہے  ( ایضاً  ص  ۶۶) نیز حافظ محمد مصطفی راسخ ( رشد  ح  ا، ص ۲۴۳) ،  محمد ابراہیم میر محمد ی  ( رشد ح ا ، ص  ۴۲۹، ۴۳۱)  ، قاری محمد یحیٰ رسو لنگری ، ( رشد ، ح ا ، ص ۶۱۳)  کا بھی یہی ارشاد گرامی ہے ۔

(س)        قرآن اور قراء ات مختلف ہیں یا ایک  : ’’ رشد‘‘  ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ایک ہی ہیں اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ان میں  فرق ہے ۔ ملاحظہ کیجئے  ’’ آپ یوں نہیںکہہ سکتے کہ یہ قراء ات  ہے اور یہ قرآن ہے  ( یہاں لفظ قراء ت  (واحد) آنا  چاہیے، مگر ’’ رشد ‘‘ کی مرضی … )  اگر آپ قرآن  اور قراء ات  کو الگ کریں گے تو اس میں قرآن کس کو کہیں گے ؟ ‘‘  (دیوبندی عالم ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی  صاحب  ، رشد ح ا، ص ۶۱۲) اس کا جواب  ’’رشد  ہی ہمیں اہلِ حدیث حافظ حمزہ مدنی  سے یہ دلواتا ہے کہ ’’  قرآن  اور قراء ات  میں فرق ہے ۔ قرآن کہتے ہیں  ان الفاظ کو جو منزل من اللہ  ہے اور قراء ات  اسی قرآن کی خبر کو کہتے ہیں  ‘‘  ( رشد ح ا، ص ۲۴۸) ۔  ان کی تائید میں ’’ رشد‘‘  ڈاکٹر  مفتی عبدالواحد صاحب کو لے آتا ہے  جن کا ارشاد ہے : ’’ قرآن اور چیز ہے اور قراء ات  اور چیز ہیں۔ قرآن تو اس چیز کا نام ہے  جو مصاحف کے اندر ثبت ہے  اور رسول اللہ ﷺ پر نازل کیاگیا ہے  اور تواتر سے نقل ہوتا چلا آ یا ہے ۔ جبکہ  قراء ات زبان سے اس کی ادائیگی کا نام ہے، قرآن ایک ہے اور قراء ات متعدد ہیں ‘‘  ( رشد ح ا ، ص ۱۳۹)

رشد حصہ دوم ، صفحہ ۷۹۱ پر مولانا  حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب  کا  ارشاد ہے کہ قرآن اور قراء ات  ایک ہی چیزہیں ، حیرت اس پر ہے کہ ان ہی کے صاحبزادے حافظ حمزہ مدنی صاحب ’رشد ‘  حصہ اول  ص ۲۷۸ میں اپنے والد صاحب محترم کی تردید کر چکے ہیں ۔

ہو سکتا ہے یہاں’’ اہل رشد‘‘ کہہ دیں کہ محققین میں اختلاف کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ لیکن اختلافات کو مخالفت اور گمراہی تک پہنچادینا اہل تحقیق کا شیوہ ہر گز نہیں ہے۔ اس کا ثبوت محمد ابراہیم میر محمدی نے اسی مسئلے پر دیا ہے ۔ اس کا ترجمہ حافظ زبیر نے کیا ہے ۔ وہ مستشر قین کا جائزہ لیتے ہوئے محترم جاویداحمد غامدی صاحب کو بھی متجدّ د کا لقب دیکر  گولڈ زہیر اور  نو لڈ میں شمار کر تے ہیں ۔ ان کا ارشاد ہے ’’گولڈ زہیر اور نولڈ کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اور قرا ء ت دونوں الگ الگ شعبے ہیں ‘‘  نیز فر ماتے ہیں  ’’اسی قسم کا قول متجددین میں سے ایک ایسے شخص کا بھی ہے ، جو اپنے آپ کو فکر اسلامی ( غالباً فکر اصلاحی  مراد ہے کیونکہ آگے ایسا ہی ارشاد فر مایا گیا ہے )، کا نمائندہ تصور کر تا ہے۔ پس فکر اصلاحی کے نمائندے کا یہ دعوی ہے کہ قرآن اور قراء ات دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ۔ایک ایسا دعوہ ہے جس کی دلیل ان کے پاس مو جود نہیں ہے ‘‘ (رشد ح ا،ص 434-433 )

آگے اس کی تصریح کر تے ہیں تاکہ کسی کو کوئی غلط فہمی نہ ہو جائے کہ فکر اصلاحی کا نمائندہ کون ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ’’فکر اصلاحی کے علمبر دار جاوید احمد غامدی مراد ہیں ، اللہ ان کو ہدایت دے ‘‘۔  (ایضا،ص 435 )  ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کو تو خیر جانے دیں کہ یہ ’’ فکر دیو بند‘‘ کے علمبرادار ہیں ،مگر میر محمدی صاحب کی محترم جاوید غامدی صاحب کے حق میں دعا کو دیکھتے ہیں اور پھر حافظ حمزہ مدنی صاحب کا یہی گولڈ زہیر اور نو لڈ والا  ’گمراہ کن‘  نظریہ دیکھتے ہیں کہ قرآن اور قراء ا ت میں فرق ہے تو حیرت میں ڈوب جا تے ہیں کہ یہ ’’دعائے خیر‘‘  حمزہ مدنی صاحب کے حق میں کیوں نہیں کی جاتی ؟

ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ جاوید احمد غامدی صاحب پر تنقید میر محمدی صاحب نے کی ہے یا یہ غصہ جناب مترجم نے خود اتارا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حافظ زبیر صاحب کی زندگی کا اہم مشن جاوید احمد غامدی صاحب کی مخالفت ہے جس کے مظاہر آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں ۔

(ص)       مصحف عثمانی اور مصحف محمدی

یہ عنوان تو ہمارا ہے لیکن سارا مواد اہلِ رشد ہی کا مہیا کردہ ہے ۔ سب سے زیادہ افسوس ناک اور پریشان کن مسئلہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ’’اہل رشد ‘‘  نے شعوری یا لا شعوری طور پر دشمنان اسلام کے ہاتھ ہی مضبوط کئے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اکرم چودھری صاحب مستشرقین کی ان نا مسعود کاوشوں کا ذکر کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ :  ’’ اختلاف قراء ات پر مبنی روایات کا جو ذخیرہ اس (آرتھر جیفری) نے پیش کیا ہے ان روایات کی اسناد خود جیفری کے اعتراف کے مطابق مکمل ہیں اور  نہ  مستند‘‘ (رشدح ا ،ص 393 )

’’اہل رشد‘‘ ان تمام روایا ت کو سند کے ساتھ مستندبناکر جیفری کی روح کو تو شاید سکون نہ پہنچا سکیں ،لیکن آنے والے مستشرقین کے ہاتھ ضرور مضبوط کئے ہیں ۔ آرتھری جیفری جس منصوبے پرکام کر نا چاہتا تھا وہ تو ڈاکٹر صاحب کے ارشاد کے مطابق اتحاد ی فوجوں کی بمباری سے تباہ ہو گیا ۔ معلوم ہو نا چاہئے  کہ وہ منصوبہ تھا کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول’’ دراصل حیفری قرآن کے تنقیدی نسخے کو اس طرح مر تب کر نا چاہتا تھا کہ ایک صفحے پر کوفی خط میں متن قرآن ہو اس کے سامنے دوسرے صفحے پر تصحیح و تنقیح شدہ حفص روایات اور حواشی footnotes) )میں قرآن حکیم کی تمام معلوم قر اء اتوں کو بیان کر دیا جائے ‘‘(رشد ح ا، ص 394 )

جیفری جس نسخے کے حواشی میں روایتوں میں مذکور قراء توں کو بیان کر نے کی کوشش کر تا رہا  اب ما شاء اللہ ’’ اہل رشد‘‘  اس سے چند قدم آگے بڑھ کر محض حواشی میں نہیں بلکہ قرآنی متن کی حیثیت سے الگ قرآن بلکہ کئی اقسام کی قرا ء تیں شائع کر وانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس سے قبل ان کاذکر محض روایا ت میں ملتا تھا ، البتہ چند مدارس میں یہ قراء ا ت پڑھائی جا تی رہی ہیں ۔ ان کی بنیاد پر کوئی مصحف مو جود نہ تھا ۔ ’’رشد ‘‘  ہی کا ارشاد ہے کہ :’’جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ قواعد و ضوابط اور پڑھنے کا انداز تو کتب قراء ات میں مو جود ہیں لیکن باقاعدہ مصاحف کی شکل میں مو جو د نہیں ہیں ۔ کلیتہ القرآن الکریم ،جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فر ما کر تین سال کے عرصے میں وہ تمام غیر متداولہ قر اء ات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نو عیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلام کا پہلا کام ہے ‘‘ ( قاری فہد اللہ مراد، رشدح ا ،ص 678 )

ظاہر ہے تاریخ اسلام کا یہ پہلا کام جوغیر متداولہ قر اء ات  پر مشتمل ہو گا جب سامنے آئے گا تو کو ئی بھلا یا بھولا آدمی احمد دیدات کی طرح یہ نعرہ مستانہ لگا کر میدان میں نہیں آسکتا کہ ہمارا قرآن مشرق سے مغرب تک ایک ہی ہے اور اس میں کسی زیر ، زبر یا شوشے کا فرق نہیں ۔  وہ کا جو سر انجام دیتے ہوئے جیفری صاحب ’’شہید‘‘ ہو ئے تھے اب ما شاء اللہ ایک قدم آگئے بڑھ کر ’’اہل رشد‘‘ سر انجام دیں گے ۔ اب اہل حدیثوں کا قرآن اور ہو گا اور اہل فقہ کا کو ئی اور۔  تاہم ابھی تک معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سب’’ غیر متداولہ قرآن ‘ ‘ مصحف محمدی کہلائیں گے یا محصف عثمانی، کیونکہ ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی صاحب ان دونوں مصاحف کے جمع کئے جا نے کی ’’حکمت‘‘ مختلف بیان کر تے ہیں ۔ لیکن حکمت بیان کر تے ہوئے سب کچھ بھول جا تے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔نبی اکرم ٖؐنے اپنی زندگی میں مکمل قرآن جو لکھوایا تھا اس کی ’حکمت ‘بیان کر تے ہوئے دو  وجہیں بیان کی ہیں :

’’  1 ۔ قرآن مجید میں چونکہ وحی با للفظ ہے اور روایت با للفظ میں الفاظ کی تبدیلی کا چونکہ اندیشہ ہے اس لئے قرآن کریم کا رسم خط لکھوایا تا کہ قرآن کے الفاظ محفوظ رہ سکیں۔

2 ۔ ما بعد ادوار میں قرآن یا اس کے لفظوں کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو کوئی ایسا معیار موجود ہو جو اختلافات کی صورت میں بطور معیار مو جود ہو‘‘  (’’رشد‘‘ ح ۲ ، ص 333 )

اگلے ہی صفحے پر حضرت عثمان کے جمع کر دہ قرآن کی’’ حکمت ‘‘ بیان کر تے ہیں:

’’ اس ضمن میں در پیش مشکل یہ تھی کہ لوگ قرآن کی تبیین کے ضمن میں رسول اللہ ؐ کے ارشادات کو بھی قرآن کے ہمراہ لکھ دیتے تھے ، جنہیں بعد ازاں قرآن سے الگ نہ لکھنے کی وجہ سے غلطی سے تلاوت قرآن میں بطور قرا ء ا ت داخل کر لیا جاتا ۔ جضرت عثمان ؓ کے زمانے میں کسی مصدقہ مصحف کی  عدم مو جودگی کی وجہ سے اس قسم کے تغیری کلمات کا اختلاف بھی زوروں پر پہنچا ہوا تھا ۔ لوگوں میں ان تفسیری تو ضیحات کے ضمن میں شدید اختلاف چل رہا تھا کہ بعض لوگ انہیں قرا ء ت کا درجہ دیکر با قاعدہ تلاوت کر تے ‘‘ (رشد‘‘  ح۲ ، ص 334 )

ڈاکٹر مو صوف جذباتی تقریر کر تے وقت بھول گئے کہ وہ پہلے نبی اکرم ؐ کے جمع کر دہ قرآن کی وجہ خود یہ بیان کر چکے تھے کہ وہ ’’ ما بعد ادوار میں قرآن یا اس کے لفظوں کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو وہ بطو ر معیار کام دے ‘‘  اگر یہ بات واقعی درست ہو تو حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں مصدقہ مصحف کی عدم موجودگی ‘‘ چہ معنی دارد ؟ چنداں پریشانی کی ضرورت اس لیے نہیں کہ غلط اور خلاف حقیقت مو قف پر ہٹ دھرمی اور اصرار سے ایسی ہی صورت حال پیدا ہو تی ہے ۔

تاہم اہل رشد کی تکنیک یہ معلوم ہوتی ہے کہ عوام کو فوری طور پر صحیح صورت حال معلوم نہ ہو سکے ۔کیونکہ پاکستان میں اگر غیر متداولہ ، یعنی قرآن مجید کے ایسے نسخے جو پہلے رائج نہ رہے ہوں ، عوام تک پہنچ جائیں تو ان کاحشر معلوم ۔ چنانچہ ان کی رائے یہ ہے کہ : ’’(ایسے غیرمتداولہ ) جمع روایات میں قرآن شائع کر نے کے بعد ان کو پوری دنیا کی لائیبریریوں میں پہنچایا جائے ۔ عوامی سطح پر لانے سے پر ہیز کیا جائے ۔ البتہ رائے عامہ ہموار کر نے کے بعد عوامی سطح پر بھی لایا جا سکتا ہے۔‘‘  (رشد ح ا ، ص 681 )

اسی طرح بہت سے مضامین  میں اختلاف ِ قراء ات  کی بے شمار’’ حکمتیں ‘‘ بیان کی گئی ہیں اور ان کو ’’رحمت ‘‘ قرار دیا گیا ہے ۔ ہم صرف اداریے میں ہی مذکور چند مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ اداریہ نویس کا ارشاد ہے:  ’’  علم قراء ات  اور تفسیر قرآن : تفسیر کا معنی ہے الفاظ قرآنیہ کا مفہوم  اس طرح پوری وضاحت سے بیان کر دیا جائے کہ ان کاکوئی ابہام یا اجمال باقی نہ رہے ۔ علم قراء ات  بھی مجمل الفاظ کی تفصیل اور ابہام کی توضیح کرتا نظر آتاہے‘  مثلا ارشاد باری تعالیٰ ہے  :  وان کان  رجل یورث  کلا لۃ اوامراۃ ولۃ اخ او اخت لکل واحد منھا السدس ( النساء ۱۲)  آیت مذکورہ میں  ’’اخ‘‘ او ر ’’ اخت‘‘ میں ابہام ہے  کہ وراثت کی تقسیم میں ذکر کیا گیا حصہ کس بھائی اور بہن کا ہے ؟  حقیقی ( سگے ) بھائی اور بہن مراد ہیں ، علاقی  ( جو باپ کی طرف سے ہوں )  یا اخیافی ( جو ماں کی طرف سے ہوں ) تو دوسری قراء ات  میں اس کی وضاحت یوں موجود ہ’’ولہ اخ اواخت من ام  ‘‘

اسی طرح دوسری مثال سورۃ المائدہ سے دیتے ہیں  کہ اصل قرآن میں تو  ’’او تحریر رقبۃ ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں  لیکن ’’ آیت  بالا میںلفظ ’’ رقبۃ ‘‘ کی وضاحت موجود نہیں کہ قسم کا کفارہ  دیتے ہوئے  اگر غلام آزاد  کرنا مقصود ہو تو  کیا غلام  میںکوئی تمیز  موجود ہے  کہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ؟ یا کسی بھی غلام کو آزاد کیا جا سکتاہے ؟ تو قراء ا ت کا اختلاف ہمیں بتاتا ہے کہ اس ضمن میں غلام کا مسلمان ہونا ضروری ہے ، کیونکہ دوسری قراء ات  میںلفظ ’ رقبہ ‘ کی صفت ’’ مومنۃ‘‘ سے بیان ہوئی ہے ۔ بنا بریں  ہم کہتے ہیںکہ کسی بھی مسئلے کی تفسیر میں ایک قراء ت سے معنی اس طرح واضح نہیںہوتے جیسے متنوع  قراء ات  مسئلہ کو کھول کر بیان کرتی ہے ‘‘ ( رشد ح ، ص ۳)

اداریہ نویس نے اس طرح دیگر ’ حکمتیں ‘  ’’نصوص کا ظاہری تعارض اور علم  قراء ات ‘‘ اور ’’ مختلف فقہی احکام کا استنباط اور علم  قراء ات‘‘  کے عنوانات کے تحت بیان فرمائی ہیں ۔ ہم حیران صرف اس بات پر ہیں کہ ہم انا للّٰہ  پڑھیں یا کوئی تبصرہ کریں ۔

قرآن کے الفاظ کو مبہم قرار دینے والے  محترم  اداریہ نویس ذرا دیر سے دنیا میں تشریف لائے  ورنہ نزول قرآن کے وقت یہ تشریف لائے ہوتے تو اللہ میاں کو نہ سہی کم از کم نبی اکرم ﷺ کو ضرو رہی مشورہ دیتے کہ:

’’ دیکھیں  اصل قرآن میں یہ لفظ رکھنے سے ابہام پیدا ہو رہاہے ۔ یہ درست ہے کہ قراء ات میں سہولت کی خاطر آپ نے ہمیں ’’سات حروف ‘‘  ( اس کا جوبھی مطلب ہو ) پڑھنے کی اجازت فرمائی ہے کہ یہ لفظ کی ادائیگی کا مسئلہ ہے ۔ اس لیے اگرچہ  ’’ من  ام‘‘  اور ’’ مومنۃ‘‘  کے الفاظ لانے یا نہ لانے سے ہمیںکوئی سہولت ہے نہ دشواری  تاہم ہمیں اللہ اور رسول ﷺ اور قرآن کی ساکھ عزیز ہے  اس لیے عرض ہے کہ قرآن کے اس ابہام کو دور کیجئے اور اصل قرآن ہی میں ’’ صحیح‘‘ لفظ رکھ دیں  اور براہ کرم  ابہام پیدا  ہی نہ کریں ۔‘‘

ہمیںیقین ہے کہ اس ’’ معقول‘‘ تجویز پر نبی اکرم ﷺ عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے فوری طور پر درخواست کرتے کہ ’’ مبہم‘‘ الفاظ کو تبدیل کر کے ’’واضح‘‘ الفاظ اصل قرآن میںڈال دیتے یوں یہ قراء ات متواترہ یا شاذہ کامسئلہ ہی سرے سے نہ اٹھتا۔ آخر اللہ میاں’’مبہم ‘‘الفاظ قرآن میں ڈال کر نعوذ باللہ امت کو پریشان کیوں کرتے  !۔  جبکہ اس کا بہت ہی آسان متبادل حل موجود تھا ، اور جو بقول اداریہ نویس یہ متبادل حل دوسری شاذ  قراء ات  کے ذریعے  ظاہر کیا گیا ہے ۔ سبحان اللہ عما یصفون۔

ہمیں دوران مطالعہ جا بجا ’’رشد‘‘ کا انداز بحث کچھ ایسا لگا جیسے وہ اصلاح فکر سے زیادہ تکینکی طور پرمخالفین کو ناک آئوٹ کر نا چاہتا ہو۔ انگریزی مقولے کے مطابق ’’ کسی کو برا نام دو اور اسے مار دو‘‘ کے مصداق اپنے سے جدا نقطہ نظر رکھنے والے کو منکر حدیث ، منکر قرآن ، متجدّد  وغیرہ کہہ کر اس کی بات کو رد کر نا محض جذباتی انداز بیان ہی کے تحت آ سکتا ہے۔ حالانکہ بعض اوقات ان کی بات خود ان کی پارٹی کے لوگ بھی کہہ رہے ہو تے ہیں اور ان کی بات کو تحقیق و تحسین کے نقطہ نظر سے سامنے لایا گیا ہے ،تا ہم ہمیں مو لانا سید ابو الاعلی مو دودی ؒ کے مضمون کی اشاعت پر حیرت انگیز مسرت ہو ئی ہے ۔

ہمارا حسن ظن ہے کہ ان پر ’’منکرحدیث ‘‘ ہونے کا فتوی اہل حدیث حضرات نے واپس لے لیا ہو گا ۔ ایک زمانے میں وہ ان کے نزدیک مانے ہوئے ’منکر حدیث‘ تھے۔بلکہ اہل حدیث کے ایک مشہور عالم محمد اسماعیل سلفی صاحب مر حوم نے اپنی کتاب میں …حجیت حدیث میں    مو لانا مو دودی ؒ اور ان کی حدیث کے متعلق نظریات کے خلاف اعلان جہاد کر رکھا تھا ۔ لیکن کوئی حرج نہیں اگر ایک ’’منکر حدیث ‘‘ کو اپنے مقصد کے لئے مفید سمجھتے ہو ئے (غلط یا صحیح ) استعمال کر لیا جائے تو یہ اہل حدیث کے مصالح المرسلہ کی تعریف یا نظریہ ضرورت کے عین مطابق ہو گا۔ لیکن ہم حسن ظن بہر حال یہی رکھیں گے کہ ان پر سے منکر حدیث ہونے کا فتوی واپس لے لیا گیا ہو گا۔ آگے جا کر شاید کوئی موقع ایسا نکل آئے کہ مو لانا امین احسن اصلاحیؒ ، محترم جاوید احمد غامدی صاحب حتی کہ محترم غلام احمد پرویز مر حوم بھی قابل قبول ہو جائیں۔ایسا برا وقت آتے کچھ دیر نہیں لگتی۔

’’رشد‘‘ میں مولانا امین اصلاحیؒ ، محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور طلوع اسلام کے خلاف ایک مضمون  میں ’’عالمانہ‘‘ انداز تحریر دیکھنے کو ملا۔حافظ محمد زبیر صاحب اور محمد رفیق چودھری صاحب کے انداز تحریر کا ہمیں کچھ کچھ اندازہ تھا ۔ ہمیں افسوس ہے کہ اس سے قبل قاری محمد صفدر صاحب سے ہم کبھی مستفید نہ ہو سکے تھے ۔ اسے ہم اپنی بد قسمتی اور کم علمی پر ہی محمول کریں گے۔

محمد رفیق چودھری صاحب کے مضمون سے معلوم ہوا کہ مو لانا امین اصلاحیؒ صاحب تدبر القرآن میں ’’ احمقانہ ‘‘ دعوی کر تے رہے اور علمیت کے نہیں ’جہالت ‘ کے دلائل فراہم کر تے رہے(رشد ح ا ، ص 518 ) ہمیں اس کا صدمہ ہے کہ مو لانا ؒ کی زندگی میں چودھری  صاحب اپنا ’’فہم دین ‘‘ ان تک نہ پہنچا سکے ۔ مو لانا محترم یقینا چودھری  صاحب کی شاگردی اختیار کر نے پر فخر محسوس کر تے۔ جمیل احمد صاحب نے طلوع اسلام کے ایک مضمون میں دعوی کیا تھا کہ احرف سبعہ کی تعریف متعین نہیں ہے ۔ اس پر قاری محمد صفدر صاحب نے اصل موضوع پر بات کرنے سے پہلے بطور مقدمہ یہ لکھا کہ :  ’’ قر ا ء ات پر تنقید کر نے کا شوق ہے لیکن مو صوف کو اتنا علم نہیں کہ لفظ قراء ت کا رسم کیا ہے ۔ اپنے پہلے مضمون میں جتنی دفعہ انہوں نے اس لفظ کو استعمال فر مایا وہ قرأت لکھا حالانکہ اس کا رسم  ’قراء ت‘ ہے، (رشد ح ا، ص 450 )

قاری محمد صفدر صاحب سے زیادہ اور تفصیل سے یہی اعتراض حافظ محمد زبیر صاحب نے دہرایا ۔ انہوں نے محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں ارشاد فرمایا :

’’غامدی صاحب کی عربی دانی :  غامدی صاحب قراء ات متواترہ پر تنقید کا شوق فر ما رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میزان میں ص 33-25 تک قرا ٔ ت کے اختلاف‘ کے عنوا ن سے سے قر اء ات متواترہ پر بحث کی ہے اور ’ قرأت کا لفظ اپنی اس بحث میں تقریباً 34 دفعہ لے آئے ہیں اور ہر دفعہ انہوں نے اس لفظ کو ’قرأت ہی لکھا ہے ، گویا انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ لفظ قرأت نہیں بلکہ ’ قراء ت ہو تا ہے جس کی جمع         ’ قراء ات ‘  ہے ۔( رشد ح ا، ص496)

ہم قاری صاحب اور حافظ صاحب کی بات مان لیتے ہیں ۔ لیکن کیا وہ اس کی وضاحت کریں گے کہ اصل لفظ اگر بڑی تاء سے قراء ت ہے تو چھوٹی تاء سے ’ قراء ۃ کیونکر درست ہو گا؟ اگر نہیں ہو گا (جس طرح کہ کلمہ التابوت اور ء التابوۃ دونوں طرح درست نہیں ہے) پھر رشد حصہ دوم میں مو لانا مبشر احمد ربانی صاحب نے (ص 54 )، قاری صہیب احمد میر محمدی صاحب نے (ص 75-60 )‘ قاری صہیب احمد صاحب نے (ص 394 تا 397 ) اور بڑے حافظ صاحب یعنی حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے (ص 677 ) یہ لفظ چھوٹی تا سے ’ قرا ء ۃ‘ کیوں لکھا؟

شاید آپ منطق کی کسی شاخ کو کھینچ تان کر اسے بھی درست قرار دیں ، حالانکہ آپ کے نزدیک درست لفظ ایک ہی ہے ۔ دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ مو لانا سید ابو الاعلی مو دودیؒ جو آپ لوگوں کے نزدیک منکر حدیث تھے ، کے مضمون کو نقل کر تے وقت یہ نشاندہی بھی کر دیتے کہ ان کی عربی دانی بھی ویسے ہی ہے کیونکہ مذکورہ مضمون (رسائل و مسائل حصہ سوم صفحہ 120 تا 133 ) میں بھی لفظ قرأت (جمع قرأتین) اسی شکل میں مو جود ہے ۔ اس کی تفصیل ہم بتا دیتے ہیں۔ یہ لفظ صفحہ 126 پر 5 دفعہ، 127 پر 3 دفعہ،128 پر 6 دفعہ،129 پر 7دفعہ، 130 پر 7 دفعہ، 131 پر 8 دفعہ، 132 پر 10 دفعہ اور صفحہ 133 پر 5 دفعہ، یعنی مجموعی طور پر 51 دفعہ آیا ہے جو بہر حال جاوید احمد غامدی صاحب سے 18 مر تبہ زیادہ استعمال ہوا ہے۔ لیکن شاید یہ ذکر کر نا آپ کے لئے مفید مطلب نہ تھا۔

آپ کی مزید اطلاع کے لئے عرض ہے کہ علمی اردو  لغت (وارث سر ہندی ) میں تین جگہوں پر‘ شان الحق حقی صاحب کی آکسفورڈانگلش ڈکشنری میں لفظ Recitation کے تحت اور فیروز سنز کی اردو انگلش ڈکشنری میں یہ لفظ قرأت ہی لکھا ہے نہ کہ قراء ت ۔ان سب کو بھی جانے دیں لیکن اس کی کیا تو جہیہ ہو گی کہ آپ کے لئے مکمل سند رکھنے والے شیخ المشائخ امام القراء ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی نور اللہ مر قدہ کی کتاب شرح قرا آت  ص ا حصہ اول کے صفحہ 29 پر تین جگہوں پر لفظ قراء ت کو  ’ قرائت ‘  لکھتے ہیں جو بالکل مختلف ہے ۔  اور باقی جگہوں پر چھوٹی تا ’ۃ‘ سے غالباً یہاں آپ کتابت کی غلطی قرار دے دیں۔چونکہ بقول عطا ء الحق قاسمی کج بحثی کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو ہم خاموش ہو جائیں گے۔ (کتاب کا ٹائیٹل ہی آپ لوگوں کے نزدیک غلط ہو گا ۔ کیونکہ آپ تو قرا ء ت جمع ’’قراء ات ‘‘ ہی کو درست مانتے ہیں۔قراآت کس طرح  درست ہو سکتا ہے )

ہم آپ کے بیان کر دہ لفظ کو غلط نہیں قرار دیتے ، بلکہ عرض مدعا یہ ہے دوسرے اہل علم بھی جو لفظ استعمال کر تے رہے ہیں ، شاید یہ اتنا غلط بھی نہ ہو کہ دوسروں کی عربی زبان ہی مشکوک ہو کر رہ جائے۔

’’رشد‘‘ کے دونوں حصوں میں دو تین مضامین قابل قدر بھی ہیں۔ مثلاً حصہ اول میں ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کا مضمون جو ایک مختلف اور اجتہادی شان رکھتا ہے اور مسلک اہل حدیث اور جملہ ائمہ کرام سے یکسر مختلف ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ: ’’ عام طور پر علماء و قراء حضرا ت ان سب حدیثوں کا ایک ہی مضمون مانتے ہیں اس لئے ان کو ایک دوسرے پر محمول کر تے ہیں ، لیکن اس صورت میں حروف سبعہ کی جو بھی تفسیر کی جائے وہ ایسی نہیں کہ اس پر کوئی اعتراض و اشکال باقی  نہ رہتا ہو ‘‘ (رشد ح ا، ص 131 ) ہمارا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے شروع میں اسی لیے ادارتی نوٹ میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ آخر میں اہل رشد کے نقطہ نظرکے مطابق ’’ راجح موقف‘‘ پیش کیا جائے گا،جو اس کی تردید کے لئے کافی ہو گا۔ دوسرا مضمون ’’ رشد‘‘ حصہ دوم میں قاری حبیب الرحمان صاحب کا ہے لیکن یہ کافی معقول ہے اس لئے ادارتی نوٹ میں فر مایا گیا ہے کہ ’’فاضل مضمون نگار نے ردعمل کی نفسیات کے تحت جرح کر ڈالی ہے ، حصہ سوم میں ان شا ء اللہ اس اچھے مضمون کی’’ خامیوں‘‘  کو بھی دور کر دیا جا ئے گا۔

تیسرا مضمون حصہ دوم میں ڈاکٹر عبدالعزیز القاری صاحب کا ہے ، انہوں نے ’’حدیث سبعہ احراف‘‘ کا مفہوم متعین کر نے کی کوشش کی ہے جس  سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابن جریر طبری ؒ سے لے کر انور شاہ کشمیر یؒ  تک سب ہی ناکام رہے ہیں ۔ پینتیس یاچالیس اقوال میں سے مشہور چھ اقوال نقل کر کے ایک ایک پر اپنی تنقید پیش کر تے ہیں ۔ امام ابن الجزری ؒ ، امام رازی اور ان قتیبہ ؒ پر زبر دست تنقید کر نے کے بعد فرماتے ہیں کہ :

’’اس تجزیہ سے ہمارا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ ہم ان انواع تغیر کا انکار کر نے پر مصرہیں ، بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان اصحاب علم سے ہر ایک کی عبارت دوسرے سے بے حد درجہ مختلف اور متغایر ہے۔ حالانکہ یہ سب علماء بڑی بحث و تمحیص ‘ قرآن کے متعدد بار مطالعہ اور حد درجہ محنت و مشقت کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں کہ ان انواع اختلاف کو اخذ کر سکیںاور بعد میں ان کا تعین کر سکیں۔ باوجود اس کے اس مسئلہ پر تینوں کے رائے مختلف ہے ، (رشدح ، ص 228 ) اگر چہ ڈاکٹر صاحب نے بھی مقدور بھر کوشش کی کہ اس چیستاں کا کوئی با معنی مفہوم متعین کر سکیں لیکن ان کی یہ رائے حقیقت پر مبنی ہے کہ :

’’ آپ ملاحظہ کر چکے ہیں اس (حدیث سبعہ احرف)کے جملہ طرق اور سندو متن میں الفاظ و صحت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے لیکن اس سب کچھ کے باو جود ہمیں ان تمام سے کوئی بھی ایسی صریح عبارت دستیاب نہیں ہو سکی جو سبعہ احرف کے مراد اور مفہوم کو متعین کرے۔ چنانچہ سبعہ احرف کا مفہوم اور مراد کیا ہے یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا‘‘  (رشد ،ح ۲،ص 230 ) تقریباً یہی کچھ انہوں نے پہلی قسط (رشد ح  ا، ص 123 ) میں  بھی کہہ دیا تھا جس کا حوالہ اوپر کہیں گزر چکاہے۔ جب صورت حال یہ ہو تو دوسرے نقطہ نظروالے حضرات کو ڈرا دھمکا کر یا منکر حدیث ہونے کی پھبتی کس کر کون کسی کو قائل کر سکتا ہے۔

دیگر  اہم مسائل  میں بھی اسی طرح ’’رشد‘‘ نے ہمیں رہنمائی سے مستفید فرمایا ہے کہ قراء ات منزل من اللہ ہیں اور نہیں بھی ۔ سبعہ قراء ات  متواترہ  ہے  بھی اور نہیں بھی ۔ مصحف عثمانی میں ساتوں حروف اب بھی ہیں اور ایک ہی حرف باقی رہ گیا ہے ، ساتوں نہیں ۔ غرض یہ کہ ’’رشد‘‘ کی رہنمائی  میں ہر وہ اہتمام کیا گیا ہے جس سے ذہن چکرا کے رہ جائے ۔ رشد کے دونوں حصوں نے کسی بھی مسئلے پر یکسو کرنے کے بجائے ذہنوں کو مزید انتشار میں میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ اُمید واثق ہے کہ تیسرا حصہ اسی سلسلے کی کڑی ہوگا۔ اس سے زیادہ انتشار تو اس وقت سامنے آئے گا جب ’’ اہل رشد ‘‘ کا نیا  غیر متداولہ قرآن سامنے آئے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس انتشار سے بچائے ۔ آمین

February 2, 2016
icon-contribute

اہل رشد کی خدمت میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ’’ اہل رشد کی خدمت میں ‘‘ محمد انور عباسی کوئی پچیس ، تیس برس ہوتے ہیں جب سعودی عرب میں احمددیدات […]
January 7, 2016
icon-contribute

سائنس و ٹیکنالوجی اور اسلام

البرہان کے شمارہ فروری و مارچ میں درج بالا موضوع پر ڈاکٹر نعمان ندوی صاحب کی تحریر پڑھ کر  جہاں یہ اندازہ ہوا کہ سائنس و […]
December 18, 2015
icon-contribute

نبی اور رسول میں فرق

تحریر: محمد انور عباسی بسا اوقات، کچھ تصورات معاشرے میں اس طرح جڑ پکڑ لیتے ہیں کہ وہ ایک عقیدے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں […]
December 10, 2015
icon-contribute

مرتد کی سزا اور قانونِ اتمامِ حجت

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم انورباسی ’’اﷲ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامتِ صغریٰ […]